Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Class 11 Urdu Lesson 3 - Akhlaq-e-Nabwi ﷺ Social Media Post & Summary


Class 11 Urdu Lesson 3 Akhlaq e Nabwi, Shibli Nomani Akhlaq e Nabwi notes, 1st year Urdu Lesson 3 summary, Akhlaq e Nabwi Class 11 short question answers, Prophet Muhammad PBUH ethics lesson Urdu, Excellence Online Learning School Urdu, EOLS class 11 notes, Urdu prose class 11 lesson 3, 11th class Urdu notes KPK board, Urdu class 11 Punjab board lesson 3.

A concise social media guide and summary for Class 11 Urdu Lesson 3 "Akhlaq-e-Nabwi ﷺ" by Shibli Nomani. Highlighting the Prophet's (PBUH) humility, persistence, and kindness
سبق: 3

اخلاقِ نبوی ﷺ

(صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم)

تدریسی مقاصد:

  • طلبہ کو مولانا شبلی نعمانی کی سیرت نگاری، اسلامی تاریخ اور ثقافت کے اہم پہلوؤں سے روشناس کرانا۔
  • طلبہ کو تاریخی تحقیق کے اصول اور طریقہ ہائے کار کے بارے میں آگاہ کرنا۔
  • طلبہ کی اخلاقی تربیت کرنا اور ان کے مذہبی، دینی شعور میں اضافہ کرنا۔

مداومتِ عمل:

اخلاق کا سب سے مقدم اور ضروری پہلو یہ ہے کہ انسان جس کام کو اختیار کرے اس پر اس قدر استقلال کے ساتھ قائم رہے کہ گویا وہ اس کی فطرتِ ثانیہ بن جائے۔ انسان کے سوا تمام دنیا کی مخلوق صرف ایک ہی قسم کا کام کر سکتی ہے اور وہ فطرتاً اس پر مجبور ہے۔ اخلاق کا ایک دقیق نکتہ یہ ہے کہ انسان اپنے لیے اخلاقِ حسنہ کا جو پہلو پسند کرے اس کی اس شدت سے پابندی کرے اور اس طرح دائمی اور غیر متبدل طریقے سے اس پر عمل کرے کہ گویا وہ اپنے اختیار کے باوجود اس کام کے کرنے پر مجبور ہے اور لوگ دیکھتے دیکھتے یہ یقین کر لیں کہ اس شخص سے اس کے علاوہ اور کوئی بات سرزد ہو ہی نہیں سکتی۔ گویا اس سے یہ افعال اس طرح صادر ہوتے ہیں جیسے آفتاب سے روشنی، درخت سے پھل، پھول سے خوشبو، یہ خصوصیات ان سے کسی حالت میں الگ نہیں ہوسکتیں۔ اس کا نام استقامتِ حال اور مداومتِ عمل ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ اپنے تمام کاموں میں اسی اصول کی پابندی فرماتے تھے، جس کام کو جس طریقے سے جس وقت آپ ﷺ نے شروع فرمایا اس پر برابر شدت کے ساتھ قائم رہے۔ سنّت کا لفظ ہماری شریعت میں اسی اصول سے پیدا ہوا ہے۔ سنت وہ فعل ہے، جس پر حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ نے ہمیشہ مداومت فرمائی ہے اور بغیر کسی قوی مانع کے کبھی اس کو ترک نہیں فرمایا۔ اس بنا پر جس قدر سنن ہیں وہ درحقیقت آپ ﷺ کی استقامتِ حال اور مداومتِ عمل کی نا قابلِ انکار مثالیں ہیں۔

حُسنِ خُلق:

معمول یہ تھا کہ کسی سے ملنے کے وقت ہمیشہ پہلے خود سلام اور مصافحہ فرماتے، کوئی شخص جھک کر آپ ﷺ کے کان میں کچھ بات کہتا تو اس وقت تک اس کی طرف سے رُخ نہ پھیرتے، جب تک وہ خود منھ نہ ہٹائے۔ مصافحہ میں بھی یہی معمول تھا، یعنی کسی سے ہاتھ ملاتے تو جب تک وہ خود نہ چھوڑ دے، اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے۔ مجلس میں بیٹھتے تو آپ ﷺ کے زانو کبھی ہم نشینوں سے آگے نکلے ہوئے نہ ہوتے۔ اکثر نوکر چاکر، غلام، خدمتِ اقدس میں پانی لے کر آتے کہ آپ ﷺ اس میں ہاتھ ڈال دیں تاکہ متبرک ہو جائے۔ جاڑوں کے دن اور صبح کا وقت ہوتا، تاہم آپ ﷺ کبھی انکار نہ فرماتے۔

مجالسِ صحبت میں لوگوں کی نا گوار باتوں کو برداشت فرماتے اور اس کا اظہار نہ کرتے۔ کسی شخص کی کوئی بات ناپسند آتی تو اکثر اس کے سامنے اس کا تذکرہ نہ فرماتے۔ ایک دفعہ ایک صاحب عرب کے دستور کے مطابق زعفران لگا کر خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے کچھ نہ فرمایا۔ جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو لوگوں سے کہا کہ ان سے کہہ دینا کہ یہ رنگ دھو ڈالیں۔

مسجدِ نبویؐ میں جگہ بہت کم ہوتی تھی، جو لوگ پہلے سے آکر بیٹھ جاتے تھے، ان کے بعد جگہ باقی نہیں رہتی تھی۔ ایسے موقع پر اگر کوئی آجاتا تو اس کے لیے آپ ﷺ خود اپنی ردائے مبارک بچھا دیتے تھے۔ کسی کی بات بری معلوم ہوتی تو مجلس میں نام لے کر اس کا ذکر نہیں کرتے تھے بلکہ صیغہ تعمیم کے ساتھ فرماتے تھے کہ لوگ ایسا کرتے ہیں، لوگ ایسا کہتے ہیں، بعض لوگوں کی یہ عادت ہے۔ یہ طریقہ ابہام اس لیے فرماتے تھے کہ شخصِ مخصوص کی ذلت نہ ہو اور اس کے احساسِ غیرت میں کمی نہ آئے۔

ایثار:

آپ ﷺ کے اخلاق و عادات میں جو وصف سب سے زیادہ نمایاں اور جس کا اثر ہر موقع پر نظر آتا تھا، وہ ایثار تھا۔ اولاد سے آپ ﷺ کو بے انتہا محبت تھی اور ان میں حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس قدر عزیز تھیں کہ جب آتیں، فرطِ محبت سے کھڑے ہو جاتے، پیشانی کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ تاہم حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عسرت اور تنگ دستی کا یہ حال تھا کہ گھر میں کوئی خادمہ نہ تھی، خود چکی پیستیں اور خود ہی پانی کی مشک بھر لاتیں۔ چکی پیستے پیستے ہتھیلیاں گھس گئی تھیں۔ ایک دن خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں، خود تو پاسِ حیا سے عرضِ حال نہ کر سکیں، جناب امیر (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) نے ان کی طرف سے یہ حال عرض کیا اور درخواست کی کہ فلاں غزوہ میں جو کنیزیں آئی ہیں ان میں سے ایک کنیز مل جائے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، ابھی اصحابِ صفہ کا انتظام نہیں ہوا اور جب تک ان کا بندوبست نہ ہو لے میں اور طرف توجہ نہیں کر سکتا۔

تواضع:

گھر کا کام کاج خود کرتے، کپڑوں میں پیوند لگاتے، گھر میں خود جھاڑو دیتے، دودھ دوہ لیتے، بازار سے سودا لاتے۔ جوتی پھٹ جاتی تو خود گانٹھ لیتے، گدھے کی سواری سے آپ ﷺ کو عار نہ تھی، غلاموں اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھنے اور ان کے ساتھ کھانا کھانے سے پر ہیز نہ تھا۔ ایک دفعہ گھر سے باہر تشریف لائے، لوگ تعظیم کو اٹھ کھڑے ہوئے، فرمایا کہ اہل عجم کی طرح تعظیم کے لیے نہ اٹھو۔ غریب سے غریب بیمار ہوتا تو عیادت کو تشریف لے جاتے۔ مفلسوں اور فقیروں کے ہاں جا کر ان کے ساتھ بیٹھتے۔ صحابہؓ کے ساتھ بیٹھتے تو اس طرح بیٹھتے کہ امتیازی حیثیت کی بنا پر کوئی آپ ﷺ کو پہچان نہ سکتا۔ کسی مجمع میں جاتے تو جہاں جگہ مل جاتی بیٹھ جاتے۔ ایک دفعہ ایک شخص ملنے آیا لیکن نبوّت کا اس قدر رعب طاری ہوا کہ کانپنے لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں، میں فرشتہ نہیں ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں، جو سوکھا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی۔

بچوں پر شفقت:

بچوں پر نہایت شفقت فرماتے تھے۔ معمول تھا کہ سفر سے تشریف لاتے تو راہ میں جو بچے ملتے ان میں سے کسی کو اپنے ساتھ سواری پر آگے پیچھے بٹھا لیتے۔ راستے میں بچے ملتے تو ان کو خود سلام کرتے۔

ایک دن حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدمتِ اقدس میں آئے۔ ان کی چھوٹی لڑکی بھی ساتھ تھی اور سرخ رنگ کا کرتا بدن پر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، سنہ سنہ۔ حبشی زبان میں حسنہ کو سنہ کہتے ہیں۔ چوں کہ ان کی پیدائش حبش میں ہوئی تھی اس لیے آپ ﷺ نے اس مناسبت سے حبشی تلفظ میں حسنہ کے بجائے سنہ کہا۔

یہ محبت اور شفقت مسلمان بچوں تک محدود نہ تھی بلکہ مشرکین کے بچوں پر بھی اسی طرح لطف فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ایک غزوہ میں چند بچے جھپیٹ میں آکر مارے گئے۔ آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو نہایت آزردہ ہوئے۔ ایک صاحب نے کہا: ”یارسول اللہ ﷺ! وہ مشرکین کے بچے تھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مشرکین کے بچے بھی تم سے بہتر ہیں، خبردار! بچوں کو قتل نہ کرو، ہر جان خدا ہی کی فطرت پر پیدا ہوتی ہے۔“

معمول تھا کہ جب فصل کا نیا میوہ کوئی خدمتِ اقدس میں پیش کرتا تو حاضرین میں جو سب سے کم عمر بچہ ہوتا اس کو عنایت فرماتے۔ بچوں کو چومتے اور ان کو پیار کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ﷺ اسی طرح بچوں کو پیار کر رہے تھے کہ ایک بدوی آیا، اس نے کہا: ”آپ لوگ بچوں کو پیار کرتے ہیں، میرے دس بچے ہیں مگر اب تک میں نے کسی کو پیار نہیں کیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اگر تمہارے دل سے محبت کو چھین لے تو میں کیا کروں؟“

لطف و طبع:

کبھی کبھی ظرافت کی باتیں فرماتے۔ ایک دفعہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکارا تو فرمایا ”او دو کان والے۔“ اس میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت اطاعت شعار تھے اور ہر وقت آپ ﷺ کے ارشاد پر کان لگائے رکھتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی کا نام ابوعمیر تھا، وہ کم سن تھے اور ایک ممولا پال رکھا تھا کہ اتفاق سے وہ مر گیا۔ ابوعمیر کو بہت رنج ہوا۔ آپ ﷺ نے ان کو غم زدہ دیکھا تو فرمایا: ”ابوعمیر! تمھارے ممولے نے یہ کیا کیا؟“

ایک شخص نے عرض کی کہ مجھ کو کوئی سواری عنایت ہو۔ ارشاد ہوا کہ میں تم کو اونٹنی کا بچہ دوں گا۔ انھوں نے کہا: ”یارسول اللہ ﷺ! میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی اونٹ ایسا بھی ہوتا ہے جو اونٹنی کا بچہ نہ ہو؟

ایک بڑھیا خدمتِ اقدس میں آئی کہ حضور ﷺ میرے لیے دعا فرمائیں کہ مجھے بہشت نصیب ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں بہشت میں نہیں جائیں گی۔ اس کو بہت صدمہ ہوا اور روتی ہوئی واپس چلی گئی۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ اسے کہہ دو کہ بوڑھی عورتیں جنت میں جائیں گی لیکن جوان ہو کر جائیں گی۔

ایک بدوی صحابی تھے جن کا نام زاہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا۔ وہ دیہات کی چیزیں آپ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ شہر میں آئے۔ گاؤں سے جو چیزیں لائے تھے ان کو بازار میں فروخت کر رہے تھے۔ اتفاقاً آپ ﷺ ادھر سے گزرے۔ حضرت زاہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے جا کر ان کو گود میں دبا لیا۔ انھوں نے کہا: ”کون ہے؟ چھوڑ دو۔“ مڑ کر دیکھا تو سرورِ عالم ﷺ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی اس غلام کو خریدتا ہے؟“ بولے: ”یا رسول اللہ ﷺ! مجھ جیسے غلام کو جو شخص خریدے گا نقصان اٹھائے گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن خدا کے نزدیک تمھارے دام زیادہ ہیں۔“

ایک شخص نے آکر شکایت کی کہ میرے بھائی کے شکم میں گرانی ہے۔ فرمایا: ”شہد پلاؤ۔“ وہ دوبارہ آئے کہ شہد پلایا لیکن شکایت اب بھی باقی ہے۔ آپ ﷺ نے پھر شہد پلانے کی ہدایت کی۔ سہ بارہ آئے، پھر وہی جواب ملا۔ چوتھی بار آئے تو فرمایا: ”خدا سچا ہے، شہد میں شفا ہے لیکن تمھارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا کر شہد پلاؤ۔“ اب کی بار پلایا تو شفا ہو گئی۔ معدہ میں مادۂ فاسد کثرت سے موجود تھا جب پورا تنقیہ ہو گیا تو گرانی جاتی رہی۔

اولاد سے محبت:

اولاد سے نہایت محبت تھی۔ معمول تھا کہ جب کبھی سفر فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جاتے اور سفر سے واپس آتے تو جو شخص سب سے پہلے باریابِ خدمت ہوتا وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی ہوتیں۔ ایک دفعہ کسی غزوہ میں گئے۔ اسی اثنا میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دونوں صاحبزادوں (حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے لیے چاندی کے کنگن بنوائے اور دروازے پر پردے لٹکائے۔ آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے تو خلافِ معمول حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر نہیں گئے۔ وہ سمجھ گئیں، فوراً پردوں کو چاک کر ڈالا اور صاحبزادوں کے ہاتھ سے کنگن اتار لیے۔ صاحبزادے روتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے ان کو کنگن لے کر بازار میں بیچ دینے کے ان کے بدلے ہاتھی دانت کے کنگن لا دو۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب آپ ﷺ کی خدمت میں تشریف لاتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی کو چومتے اور اپنی نشست گاہ سے ہٹ کر اپنی جگہ بٹھاتے۔ حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بے انتہا محبت تھی، فرماتے تھے کہ یہ میرے گل دستے ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے تو فرماتے کہ میرے بچوں کو لانا۔ وہ صاحبزادوں کو لاتیں، آپ ﷺ ان کو چومتے اور سینے سے لپٹاتے۔ ایک دفعہ مسجد میں خطبہ فرما رہے تھے۔ اتفاق سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرخ کپڑے پہنے ہوئے آئے، کم سنی کی وجہ سے ہر قدم پر لڑکھڑاتے جاتے تھے۔ آپ ﷺ ضبط نہ کر سکے، منبر سے اتر کر گود میں اٹھا لیا اور اپنے سامنے بٹھا لیا۔ پھر فرمایا: ”خدا نے سچ کہا ہے: اِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ“ فرمایا کرتے تھے: حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ خدا اس سے محبت رکھے جو حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت رکھتا ہے۔ ایک دفعہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوشِ مبارک پر سوار تھے۔ کسی نے کہا: ”کیا سواری ہاتھ آئی ہے!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوار بھی کیسا ہے؟“

ایک دفعہ آپ ﷺ کہیں دعوت میں جا رہے تھے، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ راہ میں کھیل رہے تھے۔ آپ ﷺ نے آگے بڑھ کر ہاتھ پھیلائے۔ وہ ہنستے ہوئے پاس آ آ کر نکل جاتے۔ بالآخر آپ ﷺ نے اُن کو پکڑ لیا۔ ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی پر اور ایک سر پر رکھ کر سینے سے لپٹا لیا پھر فرمایا: ”حسین میرا ہے، میں اس کا ہوں۔“ اکثر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں لیتے اور فرماتے کہ خدایا! میں اس کو چاہتا ہوں اور اس کو بھی چاہتا ہوں جو اس کو چاہے۔

آپ ﷺ کے داماد، حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر جب بدر سے قیدی ہو کر آئے تو فدیہ کی رقم ادا نہ کر سکے تو گھر کہلا بھیجا۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے گلے کا ہار بھیج دیا۔ یہ وہ ہار تھا کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جہیز میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو دیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ہار دیکھا تو بے تاب ہو گئے اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ اگر تمھاری مرضی ہو تو ہار زینبؓ کو بھیج دوں۔ سب نے بسر و چشم منظور کیا۔

"آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، دل غم زدہ ہو رہا ہے، لیکن منھ سے ہم وہی باتیں کہیں گے جس کو خدا پسند کرتا ہے۔"

آپ ﷺ کی ایک نواسی حالتِ نزع میں تھیں، صاحبزادی نے بلا بھیجا۔ آپ ﷺ تشریف لے گئے تو لڑکی اسی حالت میں آغوشِ مبارک میں رکھ دی گئی۔ آپ ﷺ نے اس کی حالت دیکھا تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ ﷺ! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رحم ہے جس کو خدا نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا ہے۔“ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر بھی آپ ﷺ آب دیدہ ہو کر فرمایا تھا۔

(سیرت النبیؐ جلد دوم)

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...