A concise social media guide and summary for Class 11 Urdu Lesson 3 "Akhlaq-e-Nabwi ﷺ" by Shibli Nomani. Highlighting the Prophet's (PBUH) humility, persistence, and kindness
اخلاقِ نبوی ﷺ
تدریسی مقاصد:
- طلبہ کو مولانا شبلی نعمانی کی سیرت نگاری، اسلامی تاریخ اور ثقافت کے اہم پہلوؤں سے روشناس کرانا۔
- طلبہ کو تاریخی تحقیق کے اصول اور طریقہ ہائے کار کے بارے میں آگاہ کرنا۔
- طلبہ کی اخلاقی تربیت کرنا اور ان کے مذہبی، دینی شعور میں اضافہ کرنا۔
مداومتِ عمل:
اخلاق کا سب سے مقدم اور ضروری پہلو یہ ہے کہ انسان جس کام کو اختیار کرے اس پر اس قدر استقلال کے ساتھ قائم رہے کہ گویا وہ اس کی فطرتِ ثانیہ بن جائے۔ انسان کے سوا تمام دنیا کی مخلوق صرف ایک ہی قسم کا کام کر سکتی ہے اور وہ فطرتاً اس پر مجبور ہے۔ اخلاق کا ایک دقیق نکتہ یہ ہے کہ انسان اپنے لیے اخلاقِ حسنہ کا جو پہلو پسند کرے اس کی اس شدت سے پابندی کرے اور اس طرح دائمی اور غیر متبدل طریقے سے اس پر عمل کرے کہ گویا وہ اپنے اختیار کے باوجود اس کام کے کرنے پر مجبور ہے اور لوگ دیکھتے دیکھتے یہ یقین کر لیں کہ اس شخص سے اس کے علاوہ اور کوئی بات سرزد ہو ہی نہیں سکتی۔ گویا اس سے یہ افعال اس طرح صادر ہوتے ہیں جیسے آفتاب سے روشنی، درخت سے پھل، پھول سے خوشبو، یہ خصوصیات ان سے کسی حالت میں الگ نہیں ہوسکتیں۔ اس کا نام استقامتِ حال اور مداومتِ عمل ہے۔
حُسنِ خُلق:
معمول یہ تھا کہ کسی سے ملنے کے وقت ہمیشہ پہلے خود سلام اور مصافحہ فرماتے، کوئی شخص جھک کر آپ ﷺ کے کان میں کچھ بات کہتا تو اس وقت تک اس کی طرف سے رُخ نہ پھیرتے، جب تک وہ خود منھ نہ ہٹائے۔ مصافحہ میں بھی یہی معمول تھا، یعنی کسی سے ہاتھ ملاتے تو جب تک وہ خود نہ چھوڑ دے، اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے۔ مجلس میں بیٹھتے تو آپ ﷺ کے زانو کبھی ہم نشینوں سے آگے نکلے ہوئے نہ ہوتے۔ اکثر نوکر چاکر، غلام، خدمتِ اقدس میں پانی لے کر آتے کہ آپ ﷺ اس میں ہاتھ ڈال دیں تاکہ متبرک ہو جائے۔ جاڑوں کے دن اور صبح کا وقت ہوتا، تاہم آپ ﷺ کبھی انکار نہ فرماتے۔
مجالسِ صحبت میں لوگوں کی نا گوار باتوں کو برداشت فرماتے اور اس کا اظہار نہ کرتے۔ کسی شخص کی کوئی بات ناپسند آتی تو اکثر اس کے سامنے اس کا تذکرہ نہ فرماتے۔ ایک دفعہ ایک صاحب عرب کے دستور کے مطابق زعفران لگا کر خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے کچھ نہ فرمایا۔ جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو لوگوں سے کہا کہ ان سے کہہ دینا کہ یہ رنگ دھو ڈالیں۔
مسجدِ نبویؐ میں جگہ بہت کم ہوتی تھی، جو لوگ پہلے سے آکر بیٹھ جاتے تھے، ان کے بعد جگہ باقی نہیں رہتی تھی۔ ایسے موقع پر اگر کوئی آجاتا تو اس کے لیے آپ ﷺ خود اپنی ردائے مبارک بچھا دیتے تھے۔ کسی کی بات بری معلوم ہوتی تو مجلس میں نام لے کر اس کا ذکر نہیں کرتے تھے بلکہ صیغہ تعمیم کے ساتھ فرماتے تھے کہ لوگ ایسا کرتے ہیں، لوگ ایسا کہتے ہیں، بعض لوگوں کی یہ عادت ہے۔ یہ طریقہ ابہام اس لیے فرماتے تھے کہ شخصِ مخصوص کی ذلت نہ ہو اور اس کے احساسِ غیرت میں کمی نہ آئے۔
ایثار:
آپ ﷺ کے اخلاق و عادات میں جو وصف سب سے زیادہ نمایاں اور جس کا اثر ہر موقع پر نظر آتا تھا، وہ ایثار تھا۔ اولاد سے آپ ﷺ کو بے انتہا محبت تھی اور ان میں حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس قدر عزیز تھیں کہ جب آتیں، فرطِ محبت سے کھڑے ہو جاتے، پیشانی کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ تاہم حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عسرت اور تنگ دستی کا یہ حال تھا کہ گھر میں کوئی خادمہ نہ تھی، خود چکی پیستیں اور خود ہی پانی کی مشک بھر لاتیں۔ چکی پیستے پیستے ہتھیلیاں گھس گئی تھیں۔ ایک دن خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں، خود تو پاسِ حیا سے عرضِ حال نہ کر سکیں، جناب امیر (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) نے ان کی طرف سے یہ حال عرض کیا اور درخواست کی کہ فلاں غزوہ میں جو کنیزیں آئی ہیں ان میں سے ایک کنیز مل جائے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، ابھی اصحابِ صفہ کا انتظام نہیں ہوا اور جب تک ان کا بندوبست نہ ہو لے میں اور طرف توجہ نہیں کر سکتا۔
تواضع:
گھر کا کام کاج خود کرتے، کپڑوں میں پیوند لگاتے، گھر میں خود جھاڑو دیتے، دودھ دوہ لیتے، بازار سے سودا لاتے۔ جوتی پھٹ جاتی تو خود گانٹھ لیتے، گدھے کی سواری سے آپ ﷺ کو عار نہ تھی، غلاموں اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھنے اور ان کے ساتھ کھانا کھانے سے پر ہیز نہ تھا۔ ایک دفعہ گھر سے باہر تشریف لائے، لوگ تعظیم کو اٹھ کھڑے ہوئے، فرمایا کہ اہل عجم کی طرح تعظیم کے لیے نہ اٹھو۔ غریب سے غریب بیمار ہوتا تو عیادت کو تشریف لے جاتے۔ مفلسوں اور فقیروں کے ہاں جا کر ان کے ساتھ بیٹھتے۔ صحابہؓ کے ساتھ بیٹھتے تو اس طرح بیٹھتے کہ امتیازی حیثیت کی بنا پر کوئی آپ ﷺ کو پہچان نہ سکتا۔ کسی مجمع میں جاتے تو جہاں جگہ مل جاتی بیٹھ جاتے۔ ایک دفعہ ایک شخص ملنے آیا لیکن نبوّت کا اس قدر رعب طاری ہوا کہ کانپنے لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں، میں فرشتہ نہیں ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں، جو سوکھا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی۔
بچوں پر شفقت:
بچوں پر نہایت شفقت فرماتے تھے۔ معمول تھا کہ سفر سے تشریف لاتے تو راہ میں جو بچے ملتے ان میں سے کسی کو اپنے ساتھ سواری پر آگے پیچھے بٹھا لیتے۔ راستے میں بچے ملتے تو ان کو خود سلام کرتے۔
ایک دن حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدمتِ اقدس میں آئے۔ ان کی چھوٹی لڑکی بھی ساتھ تھی اور سرخ رنگ کا کرتا بدن پر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، سنہ سنہ۔ حبشی زبان میں حسنہ کو سنہ کہتے ہیں۔ چوں کہ ان کی پیدائش حبش میں ہوئی تھی اس لیے آپ ﷺ نے اس مناسبت سے حبشی تلفظ میں حسنہ کے بجائے سنہ کہا۔
یہ محبت اور شفقت مسلمان بچوں تک محدود نہ تھی بلکہ مشرکین کے بچوں پر بھی اسی طرح لطف فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ایک غزوہ میں چند بچے جھپیٹ میں آکر مارے گئے۔ آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو نہایت آزردہ ہوئے۔ ایک صاحب نے کہا: ”یارسول اللہ ﷺ! وہ مشرکین کے بچے تھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مشرکین کے بچے بھی تم سے بہتر ہیں، خبردار! بچوں کو قتل نہ کرو، ہر جان خدا ہی کی فطرت پر پیدا ہوتی ہے۔“
معمول تھا کہ جب فصل کا نیا میوہ کوئی خدمتِ اقدس میں پیش کرتا تو حاضرین میں جو سب سے کم عمر بچہ ہوتا اس کو عنایت فرماتے۔ بچوں کو چومتے اور ان کو پیار کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ﷺ اسی طرح بچوں کو پیار کر رہے تھے کہ ایک بدوی آیا، اس نے کہا: ”آپ لوگ بچوں کو پیار کرتے ہیں، میرے دس بچے ہیں مگر اب تک میں نے کسی کو پیار نہیں کیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اگر تمہارے دل سے محبت کو چھین لے تو میں کیا کروں؟“
لطف و طبع:
کبھی کبھی ظرافت کی باتیں فرماتے۔ ایک دفعہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکارا تو فرمایا ”او دو کان والے۔“ اس میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت اطاعت شعار تھے اور ہر وقت آپ ﷺ کے ارشاد پر کان لگائے رکھتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی کا نام ابوعمیر تھا، وہ کم سن تھے اور ایک ممولا پال رکھا تھا کہ اتفاق سے وہ مر گیا۔ ابوعمیر کو بہت رنج ہوا۔ آپ ﷺ نے ان کو غم زدہ دیکھا تو فرمایا: ”ابوعمیر! تمھارے ممولے نے یہ کیا کیا؟“
ایک شخص نے عرض کی کہ مجھ کو کوئی سواری عنایت ہو۔ ارشاد ہوا کہ میں تم کو اونٹنی کا بچہ دوں گا۔ انھوں نے کہا: ”یارسول اللہ ﷺ! میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی اونٹ ایسا بھی ہوتا ہے جو اونٹنی کا بچہ نہ ہو؟
ایک بڑھیا خدمتِ اقدس میں آئی کہ حضور ﷺ میرے لیے دعا فرمائیں کہ مجھے بہشت نصیب ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں بہشت میں نہیں جائیں گی۔ اس کو بہت صدمہ ہوا اور روتی ہوئی واپس چلی گئی۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ اسے کہہ دو کہ بوڑھی عورتیں جنت میں جائیں گی لیکن جوان ہو کر جائیں گی۔
ایک بدوی صحابی تھے جن کا نام زاہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا۔ وہ دیہات کی چیزیں آپ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ شہر میں آئے۔ گاؤں سے جو چیزیں لائے تھے ان کو بازار میں فروخت کر رہے تھے۔ اتفاقاً آپ ﷺ ادھر سے گزرے۔ حضرت زاہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے جا کر ان کو گود میں دبا لیا۔ انھوں نے کہا: ”کون ہے؟ چھوڑ دو۔“ مڑ کر دیکھا تو سرورِ عالم ﷺ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی اس غلام کو خریدتا ہے؟“ بولے: ”یا رسول اللہ ﷺ! مجھ جیسے غلام کو جو شخص خریدے گا نقصان اٹھائے گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن خدا کے نزدیک تمھارے دام زیادہ ہیں۔“
ایک شخص نے آکر شکایت کی کہ میرے بھائی کے شکم میں گرانی ہے۔ فرمایا: ”شہد پلاؤ۔“ وہ دوبارہ آئے کہ شہد پلایا لیکن شکایت اب بھی باقی ہے۔ آپ ﷺ نے پھر شہد پلانے کی ہدایت کی۔ سہ بارہ آئے، پھر وہی جواب ملا۔ چوتھی بار آئے تو فرمایا: ”خدا سچا ہے، شہد میں شفا ہے لیکن تمھارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا کر شہد پلاؤ۔“ اب کی بار پلایا تو شفا ہو گئی۔ معدہ میں مادۂ فاسد کثرت سے موجود تھا جب پورا تنقیہ ہو گیا تو گرانی جاتی رہی۔
اولاد سے محبت:
اولاد سے نہایت محبت تھی۔ معمول تھا کہ جب کبھی سفر فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جاتے اور سفر سے واپس آتے تو جو شخص سب سے پہلے باریابِ خدمت ہوتا وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی ہوتیں۔ ایک دفعہ کسی غزوہ میں گئے۔ اسی اثنا میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دونوں صاحبزادوں (حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے لیے چاندی کے کنگن بنوائے اور دروازے پر پردے لٹکائے۔ آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے تو خلافِ معمول حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر نہیں گئے۔ وہ سمجھ گئیں، فوراً پردوں کو چاک کر ڈالا اور صاحبزادوں کے ہاتھ سے کنگن اتار لیے۔ صاحبزادے روتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے ان کو کنگن لے کر بازار میں بیچ دینے کے ان کے بدلے ہاتھی دانت کے کنگن لا دو۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب آپ ﷺ کی خدمت میں تشریف لاتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی کو چومتے اور اپنی نشست گاہ سے ہٹ کر اپنی جگہ بٹھاتے۔ حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بے انتہا محبت تھی، فرماتے تھے کہ یہ میرے گل دستے ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے تو فرماتے کہ میرے بچوں کو لانا۔ وہ صاحبزادوں کو لاتیں، آپ ﷺ ان کو چومتے اور سینے سے لپٹاتے۔ ایک دفعہ مسجد میں خطبہ فرما رہے تھے۔ اتفاق سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرخ کپڑے پہنے ہوئے آئے، کم سنی کی وجہ سے ہر قدم پر لڑکھڑاتے جاتے تھے۔ آپ ﷺ ضبط نہ کر سکے، منبر سے اتر کر گود میں اٹھا لیا اور اپنے سامنے بٹھا لیا۔ پھر فرمایا: ”خدا نے سچ کہا ہے: اِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ“ فرمایا کرتے تھے: حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ خدا اس سے محبت رکھے جو حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت رکھتا ہے۔ ایک دفعہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوشِ مبارک پر سوار تھے۔ کسی نے کہا: ”کیا سواری ہاتھ آئی ہے!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوار بھی کیسا ہے؟“
ایک دفعہ آپ ﷺ کہیں دعوت میں جا رہے تھے، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ راہ میں کھیل رہے تھے۔ آپ ﷺ نے آگے بڑھ کر ہاتھ پھیلائے۔ وہ ہنستے ہوئے پاس آ آ کر نکل جاتے۔ بالآخر آپ ﷺ نے اُن کو پکڑ لیا۔ ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی پر اور ایک سر پر رکھ کر سینے سے لپٹا لیا پھر فرمایا: ”حسین میرا ہے، میں اس کا ہوں۔“ اکثر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں لیتے اور فرماتے کہ خدایا! میں اس کو چاہتا ہوں اور اس کو بھی چاہتا ہوں جو اس کو چاہے۔
آپ ﷺ کے داماد، حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر جب بدر سے قیدی ہو کر آئے تو فدیہ کی رقم ادا نہ کر سکے تو گھر کہلا بھیجا۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے گلے کا ہار بھیج دیا۔ یہ وہ ہار تھا کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جہیز میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو دیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ہار دیکھا تو بے تاب ہو گئے اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ اگر تمھاری مرضی ہو تو ہار زینبؓ کو بھیج دوں۔ سب نے بسر و چشم منظور کیا۔
آپ ﷺ کی ایک نواسی حالتِ نزع میں تھیں، صاحبزادی نے بلا بھیجا۔ آپ ﷺ تشریف لے گئے تو لڑکی اسی حالت میں آغوشِ مبارک میں رکھ دی گئی۔ آپ ﷺ نے اس کی حالت دیکھا تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ ﷺ! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رحم ہے جس کو خدا نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا ہے۔“ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر بھی آپ ﷺ آب دیدہ ہو کر فرمایا تھا۔
Comments
Post a Comment