اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
سبق: 2
نعت
تدریسی مقاصد:
- نعت کے لغوی و اصطلاحی معنی سے آگاہ کرتے ہوئے صنف نعت گوئی کی روایت اور ارتقا کا جائزہ لینا۔
- طلبہ کو نبی کریم ﷺ کی سیرت اور سنت کے بارے میں بتانا۔
- طلبہ کو نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اپنے کردار کو ڈھالنے کی ترغیب دینا۔
- طلبہ کو سید نفیس الحسینیؒ کے نعتیہ اسلوب کی امتیازی خصوصیات سے روشناس کرانا۔
اے رسولِ امیں، خاتم المرسلیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیںہے عقیدہ یہ اپنا بہ صدق و یقیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
اے براہیمی و ہاشمی خوش لقب، اے نَوّؐ عالی نسب، اے غُّو والا حسبدُودمانِ قریشی کے دُرِّثمیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
بزمِ کونین پہلے سجائی گئی، پھر تری ذاتِ منظر پہ لائی گئیسیّد الاولیں، سیّد الآخریں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
کیا آپ جانتے ہیں؟
نعت اس صنفِ سخن کو کہتے ہیں جس میں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مدح و ثنا، صفات اور سیرتِ طیبہ کا بیان کیا جائے۔ اردو ادب میں نعت گوئی کی ایک طویل اور درخشاں روایت موجود ہے۔
”سدرۃ المنتہیٰ“ رہگزر میں تری، ”قاب قوسین“ گردِ سفر میں تریتُو ہے حق کے قریں، حق ہے تیرے قریں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
کہکشاں ضو ترے سرمدی تاج کی، زُلفِ تاباں حسیں رات معراج کی”لیلۃ القدر“ تیری منوّر جبیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
مصطفیٰؐ مجتبیٰ، تیری مدح و ثنا، میرے بس میں نہیں، دسترس میں نہیںدل کو چِنت نہیں، لب کو یارا نہیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
چار یاروں کی شانِ جلی ہے بھلی، ہیں یہ صدیقؓ، فاروقؓ، عثمانؓ، علیؓشاہدِ عدل ہیں یہ ترے جانشیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
اے سراپا نفیسؔ انفسِ دو جہاں، سرورِ دلبراں، دلبرِ عاشقاںڈھونڈتی ہے تجھے میری جانِ حزیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں
(برگِ گل)
فرہنگ (مشکل الفاظ کے معنی)
| لفظ | معنی | لفظ | معنی |
|---|---|---|---|
| دُرِّثمیں | قیمتی موتی | بزمِ کونین | دونوں جہانوں کی محفل |
| سراپا | سر سے پاؤں تک | جانِ حزیں | غمگین جان / دل |
| انفسِ دو جہاں | دونوں جہانوں کی جان | رسولِ امیں | امانت دار رسول ﷺ |
اہم نکات:
- اس نعت میں شاعر نے نبی کریم ﷺ کی بے مثالی اور عظمت کو "تجھ سا کوئی نہیں" کی تکرار (ردیف) سے واضح کیا ہے۔
- واقعہ معراج اور آپ ﷺ کے عالی نسب کا تذکرہ نہایت عقیدت سے کیا گیا ہے۔
- خلفائے راشدینؓ کو "شاہدِ عدل" قرار دے کر ان کی حقانیت بیان کی گئی ہے۔
Comments
Post a Comment