Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Class 11 Urdu Lesson 11 - Tareekh ka Kafan Digital Textbook

 Digital textbook version of the 12th Class Urdu lesson 'Tareekh ka Kafan' by Amar Jaleel. This lesson explores themes of social inequality, poverty, and the true spirit of equality in Islamic worship.


اردو-11 | حصہ نثر

تاریخ کا کفن

سبق: 11
صفحہ: ۸۱
تدریسی مقاصد:
  • • طلبہ کو فن افسانہ نگاری اور فن ترجمہ نگاری سے آگاہ کرنا۔
  • • طلبہ کو امر جلیل کی علمی، ادبی اور صحافتی خدمات بالخصوص سندھی ادب سے روشناس کرانا۔
  • • طلبہ پر طبقاتی نظام کی بدصورتی کو آشکار کرنا۔
  • • طلبہ کے دلوں میں افلاس اور غربت کے مارے لوگوں کی مدد اور احترام کرنے کا جذبہ پیدا کرنا۔
  • • طلبہ کو باور کرانا کہ علاقائی ادب کے مطالعہ سے قومی وحدت کو استحکام اور پاکستانی ثقافت میں دلکشی پیدا ہوتی ہے۔

عید نماز شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک کالا کلوٹا شیدی جس کے بال خشک، آنکھیں بنجر، بدن نحیف و نزار اور جس نے کپڑوں کے نام پر چیتھڑے پہنے ہوئے تھے؛ وہ نمازیوں کی آخری صف سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ ادھیڑ عمر کا طویل قامت شخص تھا۔ اس کے کندھے صلیب کی طرح سیدھے اور سینہ چوڑا تھا۔ اس کی پشت زندگی کا بوجھ اٹھاتے، برداشت کرتے کمان بن چکی تھی۔ اس نے لمبی سانس کھینچ کر ایک اُڑتی نگاہ عیدگاہ پر ڈالی۔

پوری عیدگاہ کراچی کے بھانت بھانت کے لوگوں سے اٹی پڑی تھی۔ قطاریں شمار سے باہر ، نمازی بے انداز ! کچھ کے کپڑوں کے جوڑے نئے ، کچھ کے دھلے ہوئے، کچھ کے اُجلے رنگ اتنے سارے کہ جیسے آسمان سے رنگوں کی دھنک زمین پر اتر آئی ہو۔ عید نماز شروع ہونے میں چند لمحات باقی تھے۔ مولوی صاحب بے حد عقیدت اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ تاریخِ اسلامی کے اوراق پلٹ رہے تھے۔ وہ کبھی بانہیں اوپر اٹھا کر تو کبھی نیچے کر کے، آواز کے زیرو بم کے ساتھ، کبھی سیدھے سبھا تو کبھی بر میں بولتے ہوئے ؛ لوگوں کے جذبہ ایمانی کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لوگ مؤدب بیٹھے ہوئے تھے اور دورانِ وعظ کبھی کبھار اونگھ بھی لیتے تھے۔ ان کی نگاہیں اپنے اپنے مصلوں کے آگے رکھے جوتوں پر تھیں۔ کچھ جوتے نئے، کچھ پرانے اور پھٹے ہوئے تھے۔ بُوٹوں، سلیپروں، سینڈلوں اور چپلوں کے تلوے تلووں سے ملے ہوئے تھے اور جائے سجدہ سے انچ بھر دور رکھے ہوئے تھے۔ جو نمازی اپنے ساتھ بچے سنورے سجے لے آئے تھے، ان کی ایک آنکھ جوتوں میں تو ایک بچوں میں گڑی ہوئی تھی۔ صحت مند مولوی صاحب، صحت مند آواز میں وعظ کر رہے تھے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم کے بجائے اللہ تعالیٰ کے قہر اور عذابِ قبر کی باتیں بتا بتا کر ڈرا رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا کہ جوشِ ایمانی میں لاؤڈ سپیکر پھاڑ ڈالیں گے۔

”آبے بیٹھ جا!“ کنگال قسم کے ایک دبلے پتلے شخص نے شیدی کا بازو پکڑتے ہوئے کہا، ”کھڑے کیوں ہو؟ بندر یا بھاگ گئی ہے کیا؟“

شیدی نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ جھٹکا دے کر بازو چھڑا کر پچھلی صف سے نکل کر اگلی صف میں کھڑا ہو گیا۔

”آبے ! ڈور کر پاپنے توے جیسے پاؤں۔ شیدی کو کہنی مارتے ہوئے ایک چریا جتنے نوجوان نے کہا: ”آدمی ہو کہ تارکول!“

شیدی نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ اس قطار سے نکل کر اگلی قطار میں کھڑا ہو گیا۔

”اوہو۔۔۔ بڑے احمق ہو تم بھی۔“ اُجلے سفید کپڑوں والے ایک شخص نے غصے میں شیدی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ”شرم نہیں آئی میرے گورے پاجامے کے پائنچے پر پاؤں رکھتے ہوئے۔“

شیدی کی اداس آنکھوں میں پراسرار روشنی ابھر آئی تھی۔ اس نے اس بپھرے ہوئے شخص کے جملے کو سنا ان سنا کر دیا۔ وہ قدم بڑھا کر اگلی قطار میں جا کھڑا ہوا۔

”خبردار!“ فرشتوں جیسے ایک شخص نے شیدی کی ٹانگ کی چٹکی کاٹتے ہوئے کہا: ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ! میرا دبی کا مصلیٰ میلا کر دیا۔ آدمی ہو کہ ابن ابلیس!“

شیدی نے چٹکی کی پروا نہیں کی اور نہ ہی فرشتوں جیسے شخص کے جملے کی۔ اس کی اداس آنکھوں میں پراسرار روشنی بڑھتی چلی گئی۔ وہ قدم بڑھا کر اگلی قطار میں جا کھڑا ہوا۔

”ارے او بن مانس!“ ایک نوجوان، جس نے بڑی محنت اور جفاکشی کے بعد اپنی چمکتی پیشانی پر بال سجارکھے تھے، نے شیدی کو حقارت آمیز لہجے میں کہا: ”چڑیا گھر سے پنجرہ توڑ کر بھاگے ہو کیا؟“

قریب بیٹھے کچھ ایکٹر چھاپ نوجوانوں نے قہقہہ لگایا۔ ایک بھینگے نوجوان نے اداکاروں جیسے لہجے میں کہا: ”لگتا ہے کہ افریقہ سے ہجرت کر کے آیا ہے۔“

ایکٹر چھاپ نوجوانوں کی ٹولی نے قہقہہ لگایا۔

ایک ادھیڑ عمر شخص، جو اونگھ رہا تھا، قہقہہ سن کر بیدار ہو گیا۔ اس نے گھٹنوں سے سر نکال کر نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ”اے لڑکو! انہیں مارخانی مت دکھاؤ ، وعظ سننے دو۔“

”چپ کر، ابابیل کے بچے!“ ایک نوجوان نے فی البدیہہ جواب دیا۔ وہ شخص اترا ہوا چہرہ لے کر بیٹھ گیا۔

اس دوران شیدی وہ قطار چھوڑ کر اگلی قطار میں جا کھڑا ہوا۔

”ارے! ادھر آگے کہاں آرہے ہو؟“ چار پانچ آدمیوں نے اسے روک لیا۔ انھوں نے اس کے پھٹے پرانے کپڑوں اور ناتواں بدن کو دیکھ کر کہا: ”یہاں شیرینی بٹ رہی ہے کیا؟“

شیدی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی آنکھیں اگلی قطار پر گڑی ہوئی تھیں۔

”پیچھے جاؤ، اے توے کے بھائی ! پیچھے جاؤ۔“

”ڈور ہٹو۔“

”بھاگ جاؤ۔“

”خبردار جو آگے آئے!“

شیدی نے انہیں جواب نہیں دیا، نہ ہی گردن موڑ کر ان کی طرف دیکھا۔ پراسرار روشنی واضح طور پر اس کی آنکھوں میں چمک رہی تھی۔ وہ آگے بڑھ گیا۔ وہ قدم اٹھاتا، چھلانگیں مارتا، نمازیوں کی دو چار قطاریں پھلانگ گیا۔

لوگوں میں کھلبلی مچ گئی۔ جو اونگھ رہے تھے وہ بیدار ہو کر بیٹھ گئے۔ جو بیدار تھے اور کانوں سے وعظ سن رہے تھے اور آنکھوں سے اپنے جوتوں اور بچوں کی نگہداشت کر رہے تھے، وہ شتر مرغ کی طرح گردنیں پھیر کر شیدی کی طرف دیکھنے لگے۔ انھوں نے جب شور سنا تو جھپٹ کر اپنے اپنے جوتے اٹھا لیے اور بچوں کو کھینچ کر گود میں بٹھا لیا۔

کچھ پر حشمت، بہادروں اور رنڈرؤں نے شیدی کو قابو میں کر لیا۔

”پکڑنا۔“ | ”مت چھوڑنا۔“ | ”خوب مرمت کرنا۔“

شور و غل بڑھ گیا۔ مولوی صاحب نے وعظ بند کر دیا اور منبر کے سب سے اونچے زینے پر چڑھ کر تماشا دیکھنے لگے۔ تمام مخلوق کا دھیان شیدی کی طرف ہو گیا۔

کئی انواع کے لوگ، کئی اقسام کے لہجے ، بھانت بھانت کی بولیاں ۔۔۔ لیکن مفہوم سب کا ایک جیسا۔۔۔

”چور ہے۔“ | ”چور نہیں ہے، جیب کترا ہے۔“ | ”برابر، برابر۔“ | ”ضرور کسی مومن کی جیب خالی کر لی ہوگی۔“ | ”شکل سے ہی چور کا پتر دکھائی پڑتا ہے۔“ | ”جوتوں کا چور ہے۔“ | ”قابو کرنا۔“ | ”پکڑنا۔“ | ”بھاگنے مت دینا۔“ | ”جلدی کرنا۔“ | ”چور ہے۔“ | ”جیب کترا ہے۔“ | ”بدمعاش ہے۔“ | ”غنڈہ ہے۔“

ایک شخص ہجوم سے راستہ بناتا، بولتا ، آگے بڑھ آیا۔ اس کے ہونٹ پتلے اور خشک، آنکھیں بے رونق اور بال اجڑے ہوئے تھے۔ اس نے لوگوں سے بلند آواز میں کہا: ”میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔ یہ چور نہیں نہ ہی جیب کترا اور نہ ہی لفنگا ہے۔ یہ صرف شیدی ہے۔“

جس نیک بندے کا ہاتھ شیدی کی گردن میں تھا، اس نے ایک نگاہ میں نو وارد کا جائزہ لیتے ہوئے طنزیہ انداز میں پوچھا: ”اور تم کون ہو؟“

اس نے جواب دیا: ”میں ماموں خاں موچی ہوں۔“

”بھاگ جا، موچی! جو جا کر پھٹے پرانے جوتوں کی مرمت کر۔“ نیک صورت اور نیک سیرت شخص نے کہا: ”ہم خود ہی اس کی خبر لیں گے۔“

ماموں خاں موچی دکھ سے ٹھنڈے ہو کر منظر سے غائب ہو گیا۔

اور پھر بڑی دیر تک بلند آواز میں جملے ایک دوسرے سے الجھتے رہے۔

”مارو، مارو۔“ | ”ٹھکائی اچھی طرح کرو۔“ | ”پہلے اس کی تلاشی لو۔“ | ”نماز میں رخنہ مت ڈالو۔“ | ”درخت سے باندھ دو۔“ | ”نماز کے بعد منڈوا لا کر کے، گدھے پر بٹھا کر اس کا جلوس نکالا جائے گا۔“ | ”ٹھیک ہے، یہ بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہے۔“ | ”اس کے منہ پر کا لک کے بجائے چونے کی سفیدی پھیریں گے۔“ | ”ہرگز نہیں، چور کا منہ ہمیشہ کالا ہوتا ہے۔“ | ”اس مسئلہ پر لوگوں سے ووٹ لیا جائے۔“ | ”ووٹ لینے کا وقت نہیں ہے۔“

لوگ آپس میں بحث مباحثہ کرنے لگے۔ وہ ایک دوسرے سے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ شور و غل بڑھ گیا۔ لوگ شیدی کے حشر کے متعلق کسی ایک فیصلے پر نہیں پہنچ سکے۔

پہلی قطار میں ملک کی نامی گرامی اور جانی پہچانی شخصیت، ہر دل عزیز، مشہور و معروف جناب محمود صاحب موجود تھے۔ لوگوں کو محمود صاحب کی حفاظت کی فکر لاحق ہو گئی۔ وہ محمود صاحب کے لیے پریشان ہونے لگے۔ ہجوم میں سے کسی نے بلند آواز، چیختے ہوئے کہا: ”کالا شیدی پہلی قطار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بد بخت ضرور کسی دشمن ملک کا ایجنٹ ہے، اور محمود صاحب کو قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔“

اس نئے انکشاف پر لوگ حواس باختہ ہو گئے۔

اچانک شیدی نے چھلانگ لگائی۔ وہ چیتے کی طرح چھال (چھلانگ) مارتا، بڑے بڑے ڈگ بھرتا، لوگوں، مصلوں، جوتوں اور چپلوں کی کئی قطاریں پھلانگ گیا۔

پہلی صف میں محمود کے ساتھ شہر کے لائق افسران، صنعت کار، تاجر اور بینکر کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ گردنیں جھکائے اور دوزانو بیٹھے ہوئے تھے اور اخباری فوٹو گرافروں سے تصاویر کھنچوا رہے تھے۔ پہلی صف کے عین عقب میں، محمود صاحب کی حفاظت کے لیے سادہ کپڑوں میں حفاظتی عملہ کے مستعد اور طاقت ور ارکان بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ بظاہر نماز پڑھنے اور اللہ کی عظمت کے سامنے سر بسجود ہونے آئے تھے، لیکن دراصل وہ محمود صاحب کی حفاظت کے لیے وہاں موجود تھے، اور نئی صورت حال کے باعث چوکس ہو رہے تھے۔ ان کے نیفوں میں خطر ناک اسلحہ چھپا ہوا تھا، اس لیے وہ بیٹھنے میں دشواری محسوس کر رہے تھے۔

شیدی جب اچھلتا، چھلانگیں مارتا، دوسری صف پھلانگ کر پہلی صف کی طرف بڑھنے لگا، تو اسے حفاظتی حملہ کے عقابوں نے جھپٹ کر قابو کر لیا۔ وہ پلک جھپکنے میں ہی اسے لاتیں، گھونسے، مکے اور گھونٹے مارتے ، عید گاہ سے باہر لے گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

لاؤڈ سپیکروں سے مولوی صاحب کی آواز گونجنے لگی۔ وہ دونوں ہاتھ عرش کی طرف اٹھا کر ، عاجزی ، انکساری کے ساتھ اور مترنم انداز میں اللہ تعالیٰ سے محمود صاحب کی درازی عمر کی دعا مانگنے لگے۔

لوگوں کا خیال بدل گیا۔ وہ شیدی کو بھول کر پہلے محمود صاحب کی طویل عمری کی دعائیں مانگیں اور پھر وعظ سننے لگے۔ انھوں نے اپنے پرانے بوٹ اور چپل سجدہ گاہ سے انچ بھر کی دوری پر رکھے تھے۔

عید گاہ سے باہر ایک علیحدہ جگہ میں حفاظتی عملہ کے ایک بڑے افسر نے بید کی چھڑی کے پے در پے وار کرتے ہوئے شیدی سے پوچھا، ”بتاؤ ، جواب دو۔ تم کس نیت سے پہلی صف کی طرف بڑھ رہے تھے؟“

مکوں ، گھونسوں اور تھپڑوں کے سبب شیدی کا پورا چہرہ لہو لہان ہو گیا تھا۔ اس کا منہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ وہ کوئی بھی جواب نہ دے سکا۔

”جواب دو۔“ پھر لاتیں اور مکے ، چہرے پر گھونسے اور پنڈلیوں پر لانگ بُوٹوں کی ٹھوکریں لگیں، ”جواب دو، کس کے ایجنٹ ہو؟ کس نیت سے آگے بڑھ رہے تھے؟“

شیدی کی ناک سے خون کے ریلے بہنے لگے۔ پیٹ اور کوکھ اور پسلیوں پر لاتیں پڑنے کے باعث اس کا جوڑ جوڑ اکھڑ گیا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔

”پہلی قطار کی طرف کیوں اور کس نیت سے بڑھ رہے تھے؟“ عملہ وار نے اسے پیٹ پر لات اور گردن پر مگا مارتے ہوئے پوچھا، ”جواب دو ، کس ارادے سے پہلی صف کی طرف بڑھ رہے تھے؟“

شیدی نے خون کی کلی کر کے، منہ کو کہنی میں کے بازو سے پونچھ لیا۔ اس کے کٹے پھٹے ہونٹ کانپنے لگے۔ اس نے کمزور آواز میں کہا: ”میں پہلی صف میں کھڑا ہو کر نماز پڑھوں گا۔“

حفاظتی عملہ کے چاق چوبند جوان شیدی کا جواب سن کر کچھ کچھ پریشان ہو گئے۔ پھر ، اس کے خراب حال اور سادہ شکل و صورت دیکھ کر قہقہے لگانے لگے۔ کسی نے کہا: ”ارے ! تم پہلی قطار میں کھڑے ہو کر نماز پڑھو گے؟“

ان میں سے ایک نے زور دار مکا شیدی کی پیشانی پر ناک کے قریب جمایا اور کہا: ”تم جھوٹ بولتے ہو۔“

پورا ماحول شیدی کی نگاہوں کے سامنے زیر و زبر ہونے لگا۔ اس کی سانس سینہ میں دھڑکنے کے بجائے تڑپنے لگی۔ سانس بند ہونے لگی۔ ناک، منہ اور کانوں سے خون رستا ، بہتا رہا. اس نے شکستہ لہجے میں کہا: ”میں پہلی قطار میں کھڑا ہو کر نماز پڑھوں گا۔“

حفاظتی عملہ کے ایک تنومند نوجوان نے شیدی کے سینے پر گھونے کا بھر پور وار کیا اور پھر اسے گالی دیتے ہوئے کہا: ”ڈراما کرتے ہو، سؤر کے بچے۔ ہم تمہیں پہچان گئے ہیں۔ تم غیر ملکی ایجنٹ ہو۔“

شیدی منھ کھا کر پیچھے ہٹ گیا، جا کر دیوار سے لگا۔

”بتاؤ!“ پھر لاٹھیاں برسنے لگیں: ”بتاؤ، کس کے ایجنٹ ہو؟“

”میں ایجنٹ نہیں ہوں۔“ شیدی سمجھنے لگا، اس نے ٹوٹے بکھرتے ہوئے کہا: ”میں پہلی صف میں کھڑا ہو کر نماز پڑھوں گا۔“

”آبے لنگورا!“ ایک موٹے تگڑے اہلکار نے اسے تھپڑ مارتے ہوئے کہا: ”زندگی بھر کبھی آئینہ دیکھا ہے! چلا ہے پتر پہلی قطار میں نماز پڑھنے!“

شیدی کی سانسوں کا سلسلہ اس کی ناک سے بہتے خون کے سبب ٹوٹنے لگا. اس نے کہا: ”میں پہلی قطار میں کھڑا ہو کر نماز پڑھوں گا۔“

”ابے اونٹ کے بچے!“ موٹے تگڑے عمل وار نے کہا، ”شہر کے معزز لوگ محمود صاحب کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے پہلی صف میں موجود ہیں۔ تم پہلی صف میں کیسے نماز پڑھو گے؟“

شیدی نے نحیف آواز میں کہا: ”میں بھی پہلی صف میں محمود صاحب کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھوں گا۔“

حفاظتی عملہ کے تنخواہ داروں نے خوب قہقہے لگائے۔ ایک نے کہا: ”اس کا دماغ ٹھکانے نہیں ہے۔“

”بہروپیا ہے۔“ بڑے افسر نے اپنے عملے کو حکم دیتے ہوئے کہا: ”اس سے پوچھو کہ یہ کون ہے اور محمود صاحب کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا ڈھونگ کیوں کر رہا ہے؟“

پھر جو درگت بنانا ان کے حافظہ میں محفوظ تھا، وہ درگت انھوں نے شیدی کی بنائی۔ لاتیں ، مکے اور گھونسے مار مار کر اسے آدھ موا کر دیا۔ شیدی فرش گزیں ہو گیا۔ انھوں نے اسے پھر اٹھا کر کھڑا کر دیا۔ اس کے منھ پر پانی کے چھینٹے مار کر اسے ہوش میں لے آئے۔ شیدی نے خون آلود آنکھیں کھول کر حفاظتی عملہ کی طرف دیکھا۔

چاق چوبند افسر نے اس کے بالوں کو مٹھی میں پکڑتے ہوئے کہا: ”بتاؤ تم کون ہو؟ محمود صاحب کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز کیوں پڑھنا چاہتے ہو؟“

شیدی بھنچنے لگا۔ ایک لمحہ کے لیے اس کی آنکھوں میں پراسرار روشنی لوٹ آئی۔ اس نے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں کہا: ”میں ایاز ہوں۔ میں ایک ہی صف میں کھڑا ہو کر محمود کے ساتھ نماز پڑھوں گا۔“

اہم نکات و فرہنگ:
نحیف و نزار: بہت کمزور / دبلا پتلا
بھانت بھانت: مختلف قسم کے
زیر و بم: آواز کا اتار چڑھاؤ
مارخانی دکھانا: بہادری یا رعب دکھانا
حواس باختہ: گھبرایا ہوا / پریشان
آدھ موا: ادھ مرا / بہت زخمی

(تاریخ کا کفن)

(سندھی سے اردو ترجمہ: بنکر چنا)

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...