چارپائی
تدریسی مقاصد:
- طلبہ کو صنف انشائیہ کے بارے میں بنیادی باتیں بتانا۔
- انشائیہ نگاری کی روایت اور ارتقا کا جائزہ لیناـ
- رشید احمد صدیقی کی ادبی خدمات سے روشناس کرانا۔
- طلبہ کو بتانا کہ "چارپائی" میں حقیقت نگاری، ادبی لطافت، رنگِ مزاح اور متنوع کیفیات ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔
چارپائی اور مذہب ہم ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہم اس پر پیدا ہوتے ہیں اور یہیں سے مدرسے، آفس، جیل خانے، کونسل، یا آخرت کا راستہ لیتے ہیں۔ چارپائی ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ ہم اس پر دوا کھاتے ہیں، دعا اور بھیک بھی مانگتے ہیں۔ کبھی فکرِ سخن کرتے ہیں اور کبھی فکرِ قوم۔ اکثر فاقہ کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ہم کو چارپائی پر اتنا ہی اعتماد ہے جتنا برطانیہ کو آئی۔سی۔ایس پر، شاعر کو قافیہ پر یا طالب علم کو ٹل غپاڑے پر۔
چارپائی کی مثال ریاست کے ملازم سے دے سکتے ہیں۔ یہ ہر کام کے لیے ناموزوں ہوتا ہے، اس لیے ہر کام پر لگا دیا جاتا ہے۔ ایک ریاست میں کوئی صاحب "ولایت پاس" ہو کر آئے۔ ریاست میں کوئی اسامی نہ تھی جو ان کو دی جا سکتی۔ آدمی سوجھ بوجھ کے تھے، راجا صاحب کے کانوں تک یہ بات پہنچا دی کہ کوئی جگہ نہ ملی تو وہ لاٹ صاحب سے ملے کر آئے ہیں۔ راجا صاحب ہی کی جگہ پر اکتفا کریں گے۔ ریاست میں ہلچل مچ گئی۔ اتفاق سے ریاست کے سول سرجن رخصت پر گئے ہوئے تھے، یہ ان کی جگہ پر تعینات کر دیے گئے۔ کچھ دنوں بعد سول سرجن صاحب واپس آئے تو انجینئر صاحب پر فالج گرا۔ ان کی جگہ ان کو دے دی گئی۔ آخری بار یہ خبر سنی گئی کہ وہ ریاست کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہو گئے تھے اور اپنے ولی عہد کو ریاست کے ولی عہد کا مصاحب بنوا دینے کی فکر میں تھے۔
یہی حالت چارپائی کی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان ملازم صاحب سے کہیں زیادہ کارآمد ہوتی ہے۔ فرض کیجیے آپ بیمار ہیں، سفرِ آخرت کا سامان میسر ہو یا نہ ہو، اگر چارپائی آپ کے پاس ہے تو دنیا میں آپ کو کسی اور چیز کی حاجت نہیں۔ دوا کی پڑیا تکیے کے نیچے، جوشاندے کی دیگچی سرہانے رکھی ہوئی، چارپائی کے نیچے میلے کپڑے، بچوں کے کھلونے، جھاڑو، آش جو، روئی کے پھاہے، کاغذ کے ٹکڑے، پتھر، بھٹے، گھریا محلے کے دوا یک بچے، جن میں ایک آدھ زکام خسرے میں مبتلا۔ اچھے ہو گئے تو بیوی نے چارپائی کھڑی کر کے غسل کرا دیا، ورنہ آپ کے دشمن اسی چارپائی پر لبِ گور لائے گئے۔
ہندوستانی گھرانوں میں چارپائی کو ڈرائنگ روم، سونے کا کمرہ، غسل خانہ، قلعہ، خانقاہ، دوا خانہ، صندوق، کتاب گھر، شفا خانہ، سب کی
حیثیت، کبھی کبھی یہ بیک وقت ورنہ رفتہ رفتہ وقت پر حاصل رہتی ہے۔ کوئی مہمان آیا، چارپائی نکالی گئی۔ اس پر ایک نئی دری بچھا دی گئی، جس کے تہ کے نشان ایسے معلوم ہوں گے جیسے کسی چھوٹی سی اراضی کو مینڈھوں اور نالیوں سے بہت سے مالکوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور مہمان صاحب مع اچکن، ٹوپی، بیگ، لایٹھی کے بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر کے لیے یہ معلوم کرنا دشوار ہو گیا کہ مہمان بے وقوف ہے یا میزبان بدنصیب! چارپائی ہی پر ان کا منہ ہاتھ دھلوایا اور کھانا کھلایا جائے گا اور اسی چارپائی پر یہ سو رہیں گے۔ سو جانے کے بعد ان پر سے مچھر مکھی اسی طرح اڑائی جائے گی جیسے کوئی پھیری والا اپنے خوانچے پر سے جھاڑو نما مورچھل سے مکھیاں اڑا رہا ہو۔
چارپائی پر سوکھنے کے لیے اناج پھیلایا جائے گا، جس پر تمام دن چڑیاں حملے کرتی، دانے چگتی اور گالیاں سنتی رہیں گی۔ کوئی تقریب ہوئی تو بڑے پیمانے پر چارپائی پر آلو چھیلے جائیں گے۔ ملازمت میں پنشن کے قریب ہوتے ہیں تو جو کچھ رخصت جمع ہوئی رہتی ہے، اس کو لے کر ملازمت سے سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح چارپائی پنشن کے قریب پہنچتی ہے تو اس کو کسی کال کوٹھری میں داخل کر دیتے ہیں اور اس پر سال بھر کا پیاز کا ذخیرہ جمع کر دیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ دیہات کے ایک میزبان نے پیاز ہٹا کر اس خاکسار کو ایسی ہی ایک پنشن یافتہ چارپائی پر اسی کال کوٹھری میں بچھا دیا تھا اور پیاز کو چارپائی کے نیچے اکٹھا کر دیا گیا تھا۔ اس رات کو مجھ پر آسمان کے اتنے ہی طبق روشن ہو گئے تھے جتنی ساری پیازوں میں چھلکے تھے اور وہ یقیناً چودہ سے زیادہ تھے۔
چارپائی ایک اچھے بکس کا بھی کام دیتی ہے، تکیے کے نیچے ہر قسم کی گولیاں، جن کے استعمال سے آپ کے سوا کوئی واقف نہیں ہوتا، ایک آدھ روپیہ، چند میلے پیسے، اسٹیشنری، کتابیں، رسالے، جاڑے کے کپڑے، تھوڑا بہت ناشتا، نقش سلیمانی، فہرست دوا خانہ، بہن، جعلی دستاویز کے کچھ مسودے، یہ سب چارپائی میں آباد ملیں گے۔ میں ایک ایسے صاحب سے واقف ہوں جو چارپائی پر لیٹے لیٹے ان میں سے ہر ایک کو، اجالا ہو یا اندھیرا، اس صحت کے ساتھ آنکھ بند کر کے نکال لیتے اور پھر رکھ دیتے، جیسے حکیم نابینا صاحب مرحوم اپنے لمبے چوڑے بکس میں سے ہر مرض کی دوا ئیں نکال لیتے اور پھر رکھ دیتے۔
حکومت بھی چارپائی ہی پر سے ہوتی ہے۔ خاندان کا کرتا دھرتا چارپائی ہی پر براجمان ہوتے ہیں۔ وہیں سے ہر طرح کے احکام جاری ہوتے رہتے ہیں اور گناہ گار کو سزا بھی وہیں سے دی جاتی ہے۔ آلاتِ سزا میں ہاتھ، پاؤں، زبان کے علاوہ ڈنڈا، جوتا، تالوٹ بھی ہیں جنھیں اکثر پھینک کر مارتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ توقف کرنے میں غصے کا تاؤ مہم نہ پڑ جائے اور ان آلات کو مجرم پر استعمال کرنے کے بجائے اپنے اوپر استعمال کرنے کی ضرورت نہ محسوس ہونے لگے۔
چارپائی ہی کھانے کا کمرہ بھی ہوتی ہے۔ باورچی خانے سے کھانا چلا اور اس کے ساتھ پانچ سات چھوٹے بڑے بچے، اتنی ہی مرغیاں، دو ایک کتے، بلی اور بے شمار مکھیاں آپہنچیں۔ سب اپنے قرینے سے بیٹھ گئے۔ صاحبِ خانہ صدر دسترخوان ہیں۔ ایک بچہ زیادہ کھانے پر مار کھاتا ہے، دوسرا بدتمیزی سے کھانے پر۔ تیسرا آم کھانے پر جو تھوپا زیادہ وہ کھانے پر اور بقیہ اس پر کہ ان کو مکھیاں کھائے جاتی ہیں۔ دوسری طرف بیوی بھی اڑائی جاتی ہے اور شوہر کی بد زبانی سنتی اور بدتمیزی سہتی جاتی ہے۔ کھانا ختم ہوا۔ شوہر شاعر ہوئے تو ہاتھ دھو کر فکرِ سخن میں چارپائی ہی پر لیٹ گئے۔ کہیں دفتر میں ملازم ہوئے تو اس طرح جان لے کر بھاگا جیسے گھر میں آگ لگی ہے۔ اور کوئی مذہبی آدمی
ہوئے تو اللہ کی یاد میں قیلولہ کرنے لگے۔ بیوی بچے بدن دبانے اور بددعائیں سننے لگے۔
چارپائی ہندوستان کی آب و ہوا، تمدن و معاشرت، ضرورت اور ایجاد کا سب سے بھرپور نمونہ ہے۔ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے مانند ڈھیلی ڈھالی، شکستہ حال، بے سرو سامان لیکن ہندوستانیوں کی طرح غالب اور حکمران کے لیے ہر قسم کا سامانِ راحت فراہم کرنے کے لیے آمادہ کوچ اور صوفے کے دلدادہ اور ڈرائنگ روم کے اسیر اس راحت و عافیت کا کیا اندازہ لگا سکتے ہیں جو چارپائی پر میسر آتی ہے! شعرا نے انسان کی خوشی اور خوش حالی کے لیے کچھ باتیں منتخب کر لی ہیں، مثلاً: سچے دوست، شرافت، فراغت، اور گوشہ چمن۔ ہندوستان جیسے غریب ملک کے لیے عیش و فراغت کی فہرست اس سے مختصر ہونی چاہیے۔ میرے نزدیک تو صرف ایک چارپائی ان تمام لوازم کو پورا کر سکتی ہے۔
بانوں کی ٹوٹی ہوئی چارپائی ہے جسے مٹر کے کھیت میں بطور مچان باندھ دیا گیا ہے۔ ہر طرف جھومتے لہلہاتے کھیت ہیں۔ بارش نے گرد و پیش کو شگفتہ و شاداب کر دیا ہے، دور دور جھیلیں جھلکتی نظر آتی ہیں جن میں طرح طرح کے آبی جانور اپنی اپنی بولیوں سے برسات کی عمل داری اور مزے داری کا اعلان کرتے ہیں۔
مچان پر بیٹھا ہوا کسان کھیت کی رکھوالی کر رہا ہے، اس کے یہاں نہ آسائش ہے نہ آرائش، نہ علم و فضل، نہ دولت و اقتدار لیکن یہ سب چارپائی پر بیٹھے ہوئے اسی کسان کی محنت کا کرشمہ ہیں۔ پھر ایک دن آئے گا جب اس کی پیداوار کو چور، مہاجن یا زمیندار لوٹ لیں گے اور اسی چارپائی پر اس کو سانپ ڈس لے گا اور قصہ پاک ہو جائے گا۔
برسات ہی کا موسم ہے۔ گاؤں میں آموں کا باغ بھی دھوپ کبھی چھاؤں، کوئل کوکتی ہے، ہوا لہکتی ہے۔ گاؤں کے لڑکے لڑکیاں دھوم مچا رہی ہیں۔ کہیں کوئی پکا ہوا آم ڈال سے ٹوٹ کر گرتا ہے۔ سب کے سب جھپٹتے ہیں۔ جس کو مل گیا، وہ ہیرو بن گیا جس کو نہ ملا اس پر سب نے ٹھٹھے لگائے۔ یہی لڑکے لڑکیاں جو اس وقت کسی طرح قابلِ التفات نظر نہیں آتیں، کسے معلوم آگے چل کر زمانہ اور زندگی کی کن نیرنگیوں کو اجاگر کریں گے، کتنے فاقے کریں گے، کتنے فاتح بنیں گے، کتنے نام ور اور نیک نام، کتنے گم نام و نا فرجام اور یہ خاکسار ایک کھڑی چارپائی پر اس باغ میں آرام فرما رہا ہے۔ چارپائی باغبان کی ہے، باغ کسی اور کا ہے، لڑکے لڑکیاں گاؤں کی ہیں۔ میرے حصے کا صرف آم ہے۔ ایسے میں جو کچھ دماغ میں نہ آئے تھوڑا ہے یا جو تھوڑا دماغ میں ہے وہ بھی نکل جائے تو کیا تعجب!
پھر عالمِ تصور میں ایسی کائنات تعمیر کرنے لگتا ہوں جو صرف میرے لیے ہے جو میرے ہی اشارے پر بنتی بگڑتی ہے، دوسروں کو اس کا اسیر دیکھ کر چونک پڑتا ہوں ۔ پھر محسوس کر کے کہ میں ان لوگوں سے اور خود زمانہ اور زندگی سے علیحدہ بھی ہوں۔ کچھ دیر کے لیے اونگھنے لگتا ہوں۔ ممکن ہے اوگھنے میں پہلے سے مبتلا ہوں۔
(مضامینِ رشید)
فرہنگ (مشکل الفاظ کے معنی)
- رشید احمد صدیقی نے چارپائی کو ہندوستانی معاشرت کا مرکز قرار دیا ہے۔
- چارپائی پیدائش سے موت تک انسان کی ساتھی رہتی ہے۔
- اسے مختلف ضروریات (بیٹھک، دوا خانہ، بکس، مچان) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
- مصنف نے طنزیہ و مزاحیہ انداز میں کسان اور عام آدمی کی زندگی کی عکاسی کی ہے۔
Comments
Post a Comment