Class 5 Urdu Lesson 3: Rahmat-e-Alam - Digital Textbook Design Lesson No: سبق نمبر 3 | Class: 5 | Subject: اردو | Topic: رحمت عالم | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن
Explore a beautifully designed digital version of Class 5 Urdu Lesson 3, "Rahmat-e-Alam". This lesson covers the mercy of Prophet Muhammad (PBUH) towards humans and animals, the conquest of Makkah, and key moral teachings in a high-quality Pakistani textbook style.
رحمتِ عالم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ وسلم
اس سبق کی تکمیل کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ :
- مرکب جملے سن کر سمجھیں اور دہرا سکیں۔
- گفت گو کے دوران میں مرکب جملوں اور محاورات کا استعمال کر سکیں۔
- متن کو تفہیم، درست تلفظ اور ادائی سے پڑھ سکیں۔
- متن (نثر) پڑھ کر سوالات کے جوابات تحریر کرسکیں۔
- رموزِ اوقاف (وقفہ) کا استعمال کر سکیں۔
- کسی تقریب کو دیکھ کر اس کی کسی مخصوص سرگرمی پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرسکیں۔
- اپنے سکول اور محلے کی لائبریری سے اپنی دل چسپی کی کتابیں، رسائل وغیرہ لے کر ان کا مطالعہ کر سکیں۔
- انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کس کو بھیجا؟
- صادق اور امین کس ہستی کے القاب ہیں؟ یہ القاب انھیں کن اوصاف کی وجہ سے ملے؟
- حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی ذات اخلاق کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہے۔
- آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "اور ہم نے آپ (خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم) کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔" (سورۃ الانبیاء: ۱۰۷)
- آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کا وصال تریسٹھ (۶۳) برس کی عمر میں ہوا۔ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کا روضہ مبارک مسجد نبوی (مدینہ منورہ) میں ہے۔
رحمتِ عالم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم
رمضان کا مقدس مہینا تھا۔ حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ دس ہزار کا لشکر آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ مکہ والوں میں اب لڑنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ وہ لوگ جو کل تک ظالم بنے ہوئے تھے، کمزوروں پر جبر کرتے تھے، اسلام قبول کرنے والوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے تھے، آج خوف کے مارے چھپتے پھر رہے تھے۔ ان کے دل مسلمانوں کی ہیبت سے لرز رہے تھے۔
مکہ مکرمہ والے اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں ان کی قسمت کے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو ارشاد فرمایا: "جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوا، اس کے لیے امان ہے۔ جو بیت اللہ میں آگیا، اس کے لیے امان ہے اور جو اپنے گھر کے دروازے بند کر کے بیٹھ گیا، اس کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔"
بیت اللہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے قریش کے لوگوں سے فرمایا: "اے قریش والو! جانتے ہو، میں تمھارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟" وہ بولے: "آپ سے بھلائی اور خیر کی امید ہے۔ آپ رحم و کرم والے بھائی اور رحم و کرم کرنے والے بھائی کے بیٹے ہیں۔" نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ جاؤ تم سب آزاد ہو۔" آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کے پیارے چچا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاتل وحشی اور قتل کروانے والی ہندہ بنتِ عتبہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کے سامنے پیش ہوئے۔ دونوں نے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم سے معافی مانگی۔ انھیں معافی دے دی گئی۔ پوری انسانی تاریخ میں معافی اور درگزر کی ایسی شان دار مثال نہیں ملتی۔ عفو و درگزر کا صرف یہ ایک واقعہ نہیں ہے، حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی زندگی اس طرح کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم سراپا رحمت تھے۔
آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی زندگی رحمت و شفقت اور عفو و درگزر کا عملی نمونہ تھی۔ جان کے دشمن آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کے رحم و کرم پر ہوتے تو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم انھیں امان دیتے۔ کسی کو لاچار اور بے یار و مددگار دیکھتے تو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کا دل پسیج جاتا۔ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم آگے بڑھ کر اس کی مدد کرتے۔
ایک دفعہ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے دیکھا کہ ایک غلام آٹا پیس رہا ہے اور ساتھ ہی درد سے کراہ رہا ہے۔ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم اس کے قریب گئے تو پتا چلا کہ وہ بیمار ہے اور اس کا ظالم آقا اسے چھٹی نہیں دیتا۔ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے اسے آرام سے لٹایا اور سارا آٹا خود پیس دیا، پھر فرمایا: "جب تم نے آٹا پیسنا ہو، مجھے بلا لینا۔"
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تمھارے غلام اور خادم تمھارے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارے ماتحت کر دیا ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ جو کھانا خود کھائے، اپنے غلام اور خادم کو بھی وہی کھانا کھلائے اور جو کپڑا خود پہنے ان کو بھی وہی پہنائے۔ اپنے غلام اور خادم سے ایسی مشقت نہ لے جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہو اور اگر اس کی طاقت سے بڑھ کر کام لے تو اس میں اس کی مدد کرے۔
- صحابی کسے کہتے ہیں؟
- وحشی کون تھا؟
- جانوروں کے بارے میں آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے کیا فرمایا؟
نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم انسانوں ہی نہیں بلکہ بے زبان جانوروں پر بھی بہت مہربان تھے اور ان پر کسی قسم کا ظلم یا زیادتی ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے جانوروں اور پرندوں کا خیال رکھنے کی نصیحت کی ہے۔ ایک مرتبہ صحابہؓ نے چڑیا کے گھونسلے سے اس کے بچے اٹھا لیے۔ چڑیا سر پر منڈلانے لگی۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے پوچھا کہ یہ چڑیا کیوں پریشان ہے؟ صحابہؓ نے جواب دیا: "یا رسول اللہ (خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم)! ہم نے اس کے بچے اٹھا لیے ہیں۔" آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا: "جاؤ! بچوں کو گھونسلے میں واپس رکھ دو۔" یہ سن کر صحابہؓ نے فوراً چڑیا کے بچے گھونسلے میں واپس رکھ دیے۔
اسی طرح سے ایک مرتبہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کہیں تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک اونٹ پر نظر پڑی، جو بھوک کی وجہ سے کمزور ہو گیا تھا۔ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کو بہت دکھ ہوا۔ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا: "لوگو! ان بے زبانوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔"
سچ یہ ہے کہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
"دلائل النبوۃ" از امام بیہقیؒ
- آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم عفو و درگزر کا بہترین نمونہ ہیں۔
- آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کے دشمن بھی آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی اعلیٰ خوبیوں کے معترف تھے۔
Comments
Post a Comment