Belief in Angels (Farishton Par Iman) - Class 4 Islamiat Lesson Lesson No: باب نمبر 1 ، حصہ 1 | Class: 4 | Subject: اسلامیات | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن
A comprehensive digital lesson on the 'Belief in Angels' for Class 4 students, following the Single National Curriculum (SNC) of Pakistan. Includes names of famous angels, their duties, and Quranic references in high-quality Urdu typography.
(1) فرشتوں پر ایمان
اس سبق کی تکمیل پر آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ:
- تمام فرشتوں پر ایمان لانے کے حکم سے آگاہ ہوسکیں۔
- مشہور فرشتوں کے نام جان سکیں۔
- اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ مشہور فرشتوں کی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوسکیں۔
فرشتے اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں۔ فرشتوں کو کھانے، پینے اور سونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذمے جو کام لگا رکھے ہیں، اُن کو پوری ذمہ داری سے انجام دیتے ہیں۔
ترجمہ: وہ نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جس کا وہ انہیں حکم دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ (سورۃ التحریم، آیت: 6)
فرشتوں کی اصل تعداد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات، اُس کے رسولوں، کتابوں اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنا ضروری ہے اسی طرح فرشتوں پر ایمان رکھنا بھی ضروری ہے۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام کا لقب ”الرُّوح الامین“ ہے۔
مشہور فرشتوں کے نام اور اُن کے کام
دیگر اہم فرشتے
کراماً کاتبین: کراماً کاتبین کا مطلب ہے معزز لکھنے والے۔ یہ فرشتے انسان کے اعمال لکھتے ہیں۔
منکر نکیر: انسان کے مرنے کے بعد جو فرشتے قبر میں سوال کرتے ہیں اُن کو منکر نکیر کہا جاتا ہے۔
محافظ فرشتے: اللہ تعالیٰ نے انسان کی حفاظت کے لیے اُس کے آگے اور پیچھے کچھ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اُس کے حکم سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں اور نقصان دہ چیزوں سے بچاتے ہیں۔
فرشتے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اللہ تعالیٰ کا ہر حکم مانیں۔
ترجمہ: اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی تھکتے ہیں۔ (سورۃ الانبیاء، آیت: 19)
تیار کردہ: Excellence Online Learning School (EOLS)
excellenceonlinelearningschool.blogspot.com
Comments
Post a Comment