Explore the complete lesson 'Apni Madad Aap' by Sir Syed Ahmed Khan for Class 9 Urdu. This digital textbook format provides word-for-word accuracy, learning objectives, and professional typography inspired by Pakistani SNC textbooks.
اپنی مدد آپ
- ۱۔ طلبہ کو اپنی مدد آپ کے جذبے سے آگاہ کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرنا۔
- ۲۔ طلبہ کو اس مقولے کے الفاظ "خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں" سے آگاہ کرنا اور اس حوالے سے قرآنی تعلیمات کا حوالہ دینا اور مولانا ظفر علی خاں کے اس شعر کی بنیاد پر سبق کی تفہیم کرنا:
- ۳۔ طلبہ کو الف بائی ترتیب، لغت کا استعمال اور متلازم یا گروہی الفاظ سمجھانا۔
- ۴۔ کسی سبق کا مرکزی خیال یا خلاصہ لکھنا سکھانا۔
- ۵۔ مضمون لکھنے کے بارے میں نکات بتانا۔
یہ ایک نہایت عمدہ اور آزمودہ مقولہ ہے۔ اس چھوٹے سے فقرے میں انسانوں کا اور قوموں کا اور نسلوں کا تجربہ جمع ہے۔ ایک شخص میں اپنی مدد کرنے کا جوش اس کی سچی ترقی کی بنیاد ہے اور جب یہ جوش بہت سے شخصوں میں پایا جاوے تو وہ قومی ترقی اور قومی طاقت اور قومی مضبوطی کی جڑ ہے۔ جب کہ کسی شخص کے لیے یا کسی گروہ کے لیے کوئی دوسرا کچھ کرتا ہے تو اس شخص میں سے یا اس گروہ میں سے وہ جوش اپنی مدد آپ کرنے کا کم ہو جاتا ہے اور ضرورت اپنے آپ مدد کرنے کی اس کے دل سے مٹتی جاتی ہے اور اسی کے ساتھ غیرت، جو ایک نہایت عمدہ قوت انسان میں ہے اور اسی کے ساتھ عزت جو اصلی چمک ایک انسان کی ہے، از خود جاتی رہتی ہے اور جب کہ ایک قوم کی قوم کا یہ حال ہو تو وہ ساری قوم دوسری قوموں کی آنکھ میں ذلیل اور بے غیرت اور بے عزت ہو جاتی ہے۔
آدمی جس قدر کہ دوسرے پر بھروسے کرتے جاتے ہیں، خواہ اپنی بھلائی اور اپنی ترقی کا بھروسا گورنمنٹ ہی پر کیوں نہ کریں، وہ اسی قدر بے مدد اور بے عزت ہوتے جاتے ہیں۔
یہ ایک نیچر کا قاعدہ ہے کہ جیسا مجموعہ قوم کی چال چلن کا ہوتا ہے یقینی اس کے موافق اس کے قانون اور اس کے مناسب حال گورنمنٹ ہوتی ہے۔ جس طرح کہ پانی خود اپنی پنسال میں آ جاتا ہے، اسی طرح عمدہ رعایا پر عمدہ حکومت ہوتی ہے اور جاہل و خراب و نا تربیت یافتہ رعایا پر ویسی ہی اکھڑ حکومت کرنی پڑتی ہے۔ تمام تجربوں سے ثابت ہوا ہے کہ کسی ملک کی خوبی و عمدگی اور قدر و منزلت بہ نسبت وہاں کی گورنمنٹ کے عمدہ ہونے کے زیادہ تر اس ملک کی رعایا کے چال چلن، اخلاق و عادت، تہذیب و شائستگی پر منحصر ہے، کیونکہ قوم شخصی حالتوں کا مجموعہ ہے اور ایک قوم کی تہذیب درحقیقت ان مرد و عورت و بچوں کی شخصی ترقی ہے، جن سے وہ قوم بنی ہے۔
قومی ترقی مجموعہ ہے شخصی محنت، شخصی عزت، شخصی ایمان داری، شخصی ہمدردی کا۔ اسی طرح قومی تنزل مجموعہ ہے شخصی سستی، شخصی بے عزتی، شخصی بے ایمانی، شخصی خود غرضی کا اور شخصی برائیوں کا۔ نا تہذیبی و بد چلنی جو اخلاقی و تمدنی یا باہمی معاشرت کی بدیوں میں شمار ہوتی ہے، در حقیقت وہ خود اسی شخص کی آوارہ زندگی کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ بیرونی کوشش سے ان برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ ڈالیں اور نیست و نابود کر دیں تو یہ برائیاں کسی اور نئی صورت میں اس سے بھی زیادہ زور شور سے پیدا ہو جاویں گی۔ جب تک شخصی زندگی اور شخصی چال چلن کی حالتوں کو ترقی نہ کی جاوے۔
اے میرے عزیز ہم وطن! اگر یہ رائے صحیح ہے تو اس کا یہ نتیجہ ہے کہ قوم کی سچی ہمدردی اور سچی خیر خواہی کرو۔ غور کرو کہ تمھاری قوم کی شخصی زندگی اور شخصی چال چلن کس طرح پر عمدہ ہو، تاکہ تم بھی ایک معزز قوم ہو۔ کیا جو طریقہ تعلیم و تربیت کا، بات چیت کا، وضع و لباس کا، سیر سپاٹے کا، شغل و اشغال کا، تمھاری اولاد کے لیے ہے، اس سے ان کے شخصی چال چلن، اخلاق و عادات، نیکی و سچائی میں ترقی ہو سکتی ہے؟ حاشا و کلا۔ جب کہ ہر شخص اور کل قوم خود اپنی اندرونی حالتوں سے آپ اپنی اصلاح کر سکتی ہے تو اس بات کی امید پر بیٹھے رہنا کہ بیرونی زور انسان کی یا قوم کی اصلاح و ترقی کرے، کس قدر افسوس بلکہ نادانی کی بات ہے۔
وہ شخص در حقیقت غلام نہیں ہے جس کو ایک خدا نا ترس نے جو اس کا ظالم آقا کہلایا جاتا ہے، خرید لیا ہے، یا ایک ظالم اور خود مختار بادشاہ یا گورنمنٹ کی رعیت ہے بلکہ در حقیقت وہ شخص اصلی غلام ہے جو بد اخلاقی، خود غرضی، جہالت اور شرارت کا مطیع اور اپنی خود غرضی کی غلامی میں مبتلا اور قومی ہمدردی سے بے پروا ہے۔ وہ قومیں جو اس طرح دل میں غلام ہیں وہ بیرونی زوروں سے، یعنی عمدہ گورنمنٹ یا عمدہ قومی انتظام سے آزاد نہیں ہو سکتیں جب تک کہ غلامی کی یہ دلی حالت دور نہ ہو۔ اصل یہ ہے کہ جب تک انسانوں میں یہ خیال ہے کہ ہماری اصلاح و ترقی گورنمنٹ پر یا قوم کے عمدہ انتظام پر منحصر ہے، اس وقت تک کوئی مستقل اور برتاؤ میں آنے کے قابل نتیجہ اصلاح و ترقی کا قوم میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ گو کیسی ہی عمدہ تبدیلیاں گورنمنٹ یا انتظام میں کی جاویں، وہ تبدیلیاں فانوسِ خیال سے کچھ زیادہ رتبہ نہیں رکھتیں جس میں طرح طرح کی تصویریں پھرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، مگر جب دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔
انسان کی قومی ترقی کی نسبت ہم لوگوں کے یہ خیال ہیں کہ کوئی خضر ملے، گورنمنٹ فیاض ہو اور ہمارے سب کام کر دے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر چیز ہمارے لیے کی جاوے اور ہم خود نہ کریں۔ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس کو ہادی اور رہنما بنایا جاوے تو تمام قوم کی دلی آزادی کو برباد کر دے اور آدمیوں کو انسان پرست بنا دے۔ حقیقت میں ایسا ہونا قوت کی پرستش ہے اور اس کے نتائج انسان کو ایسا ہی حقیر بنا دیتے ہیں جیسے کہ صرف دولت کی پرستش سے انسان حقیر و ذلیل ہو جاتا ہے۔
بڑا سچا مسئلہ اور نہایت مضبوط جس سے دنیا کی معزز قوموں نے عزت پائی ہے وہ اپنی مدد آپ کرنا ہے۔ جس وقت لوگ اس کو اچھی طرح سمجھیں گے اور کام میں لاویں گے تو پھر خضر کو ڈھونڈنا بھول جاویں گے۔ دوسروں پر بھروسے اور اپنی مدد آپ یہ دونوں اصول ایک دوسرے کے بالکل مخالف ہیں۔ پچھلا انسان کی بدیوں کو برباد کرتا ہے اور پہلا خود انسان کو۔
انسان کی اگلی پشتوں کے حالات پر خیال کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی موجودہ حالت انسانوں کے نسل در نسل کے کاموں سے حاصل ہوئی ہے۔ محنتی اور مستقل مزاج محنت کرنے والوں، زمین کے جوتنے والوں، کانوں کے کھودنے والوں، نئی نئی باتوں کے ایجاد کرنے والوں، مخفی باتوں کو ڈھونڈ کر نکالنے والوں، آلاتِ جرثقیل سے کام لینے والوں اور ہر قسم کے پیشہ کرنے والوں، ہنر مندوں، شاعروں، حکیموں، فیلسوفوں، ملکی منظموں نے انسان کو موجودہ ترقی کی حالت پر پہنچانے میں بڑی مدد دی ہے۔ ایک نسل نے دوسری نسل کی محنت پر عمارت بنائی ہے اور اس کو ایک اعلیٰ درجے پر پہنچایا ہے۔ ان عمدہ کاریگروں سے جو تہذیب و شائستگی کی عمارت کے معمار ہیں، لگاتار ایک دوسرے کے بعد ہونے سے محنت اور علم و ہنر میں جو ایک بے ترتیبی کی حالت میں تھی، ایک ترتیب پیدا ہوئی ہے۔
رفتہ رفتہ نیچر کی گردش نے موجودہ نسل کو اس زرخیز اور بے بہا جائیداد کا وارث کیا ہے جو ہمارے پرکھوں کی ہوشیاری اور محنت سے مہیا ہوئی تھی اور وہ جائیداد ہم کو اس لیے نہیں دی گئی ہے کہ ہم صرف مثل مارِ سرِ گنج اس کی حفاظت ہی کیا کریں بلکہ ہم کو اس لیے دی گئی ہے کہ اس کو ترقی دیں اور ترقی یافتہ حالت میں آیندہ نسلوں کے لیے چھوڑ جاویں، مگر افسوس صد ہزار افسوس کہ ہماری قوم نے ان پرکھوں کی چھوڑی ہوئی جائیداد کو بھی گرا دیا۔
ایک نہایت عاجز و مسکین غریب آدمی جو اپنے ساتھیوں کو محنت اور پرہیزگاری اور بے لگاؤ ایمان داری کی نظیر دکھاتا ہے، اس شخص کا اس کے زمانے میں اور آیندہ زمانے میں اس کے ملک و اس کی قوم کی بھلائی پر بہت بڑا اثر پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس کی زندگی کا طریقہ اور چال چلن گو معلوم نہیں ہوتا مگر اور شخصوں کی زندگی میں خفیہ خفیہ پھیل جاتا ہے اور آیندہ کی نسل کے لیے ایک عمدہ نظیر بن جاتا ہے۔
ہر روز کے تجربے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شخصی چال چلن ہی میں یہ قوت ہے کہ دوسرے کی زندگی اور برتاؤ اور چال چلن پر نہایت قوی اثر پیدا کرتا ہے اور حقیقت میں یہی ایک نہایت عمدہ عملی تعلیم ہے۔ یہ پچھلا علم وہ علم ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ اسی پچھلے علم سے عمل، چال چلن، تعلیمِ نفس، نفس کشی، شخصی خوبی، قومی مضبوطی، قومی عزت حاصل ہوتی ہے۔ یہی پچھلا علم وہ علم ہے کہ جو انسان کو اپنے فرائض ادا کرنے اور دوسروں کے حقوق محفوظ رکھنے اور زندگی کے کاروبار کرنے اور اپنی عاقبت کے سنوارنے کے لائق بنا دیتا ہے۔ اس تعلیم کو آدمی صرف کتابوں سے نہیں سیکھ سکتا اور نہ یہ تعلیم کسی درجے کی علمی تحصیل سے ہوتی ہے اور مشاہدہ آدمی کی زندگی کو درست اور اس کے علم کو باعمل یعنی اس کے برتاؤ میں کر دیتا ہے۔ علم کے بہ نسبت عمل اور سوانح عمری کی بہ نسبت عمدہ چال چلن آدمی کو زیادہ تر معزز اور قابلِ ادب بناتا ہے۔
Comments
Post a Comment