Skip to main content

Pinned Post

Class 11 Urdu Lesson 22 | Ghazal by Parveen Shakir | EOLS

  اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...

Akhlaq-e-Hasna Class 9 Urdu Lesson 3 Digital Textbook

 

Class 9 Urdu Lesson 3 notes, Akhlaq e Hasna summary, Urdu lesson 3 question answers, 9th class urdu book punjab board, SNC urdu class 9, Akhlaq e Hasna tashreeh, Seerat un Nabi Maulana Shibli Nomani, Excellence Online Learning School Urdu, Prophet Muhammad personality in Urdu, Urdu grammar and prose class 9.

Explore the beautiful character of Prophet Muhammad ﷺ in this Class 9 Urdu Lesson 3, "Akhlaq-e-Hasna." A detailed, visually appealing digital book format covering his generosity, justice, and simplicity.


جماعت: نہممضمون: اردو
سبق: ۳

اخلاقِ حسنہ

مقاصدِ تدریس:
  • ۱۔ طلبہ کو اعلانِ نبوت سے پہلے عربوں میں جاری رسوم و روایات سے آگاہ کرنا۔
  • ۲۔ طلبہ کو اس امر سے آگاہ کہ آپ ﷺ نے تبلیغِ اسلام کے آغاز میں بڑی مشکلات کا سامنا کیا۔
  • ۳۔ طلبہ کو سیرت نگاری اور سیرتِ نبوی کے چیدہ چیدہ نکات سے روشناس کرنا۔
  • ۴۔ طلبہ کو مولانا شبلی نعمانی کی ”سیرت النبی“ کو مرتب کرنے میں سید سلیمان ندوی کی خدمات سے آگاہ کرنا۔
  • ۵۔ طلبہ کے دلوں میں اسلامی جذبہ پیدا کرنا اور طلبہ کو اپنے کردار اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب دینا۔
  • ۶۔ نثر پارے کی تشریح کرنے کا انداز سکھانا۔

کسی نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ حضور ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ انھوں نے کہا: ”کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ہے؟ جو کچھ قرآن میں ہے وہ حضور ﷺ کے اخلاق تھے۔“ غرض آپ ﷺ کی ساری زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر تھی اور یہ بھی آپ ﷺ کا ایک معجزہ ہے۔ خود قرآن نے اس کی شہادت دی اور کہا:

ترجمہ: ”بے شک اے محمد (رسول اللہ ﷺ)! آپ حسنِ اخلاق کے بہت بڑے رتبے پر ہیں۔“

حضور ﷺ نہایت خاکسار، ملنسار، مہربان اور رحم دل تھے۔ چھوٹے بڑے سب سے محبت کرتے، نہایت سخی، فیاض اور داد و دہش والے تھے۔ امکان بھر سب کی درخواست پوری کرتے۔ تمام عمر کسی کے سوال پر ”نہیں“ نہیں کہا۔ خود بھوکے رہتے اور دوسروں کو کھلاتے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی کی شادی ہوئی، اُن کے پاس ولیمے کا کچھ سامان نہ تھا۔ حضور ﷺ نے اُن سے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جاؤ اور آٹے کی ٹوکری مانگ لاؤ، حالاں کہ اس آٹے کے سوا شام کے لیے گھر میں کچھ بھی نہ تھا۔

فیاضی اور دنیا کے مال سے بے تعلقی کا یہ عالم تھا کہ گھر میں نقد قسم کی کوئی چیز بھی ہوتی تو جب تک وہ سب خیرات نہ کر دی جاتی آپ ﷺ اکثر گھر میں آرام نہ فرماتے۔ ایک بار فدک کے رئیس نے چار اونٹوں پر غلہ بھیجا۔ اس کو بیچ کر قرض ادا کیا گیا، پھر بھی بچ رہا۔ آپ ﷺ نے کہا: جب تک کچھ بھی باقی رہے گا، میں گھر میں نہیں جاسکتا، رات مسجد میں بسر کی۔ دوسرے دن جب معلوم ہوا کہ وہ غلہ تقسیم ہو چکا ہے تب گھر میں تشریف لے گئے۔

اہم نکتہ: حضور ﷺ کے یہاں مسلمان، مشرک اور کافر سب ہی مہمان ہوتے۔ آپ ﷺ سب کی خاطر کرتے اور خود ہی سب کی خدمت کرتے۔

حضور ﷺ بڑے مہمان نواز تھے۔ آپ ﷺ کے یہاں مسلمان، مشرک اور کافر سب ہی مہمان ہوتے۔ آپ ﷺ سب کی خاطر کرتے اور خود ہی سب کی خدمت کرتے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ مہمان آجاتے اور گھر میں جو کچھ موجود ہوتا، وہ اُن کو کھلا پلا دیا جاتا اور پورا گھر فاقہ کرتا۔ راتوں کو اٹھ کر مہمانوں کی دیکھ بھال فرماتے کہ ان کو کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔ گھر میں رہتے تو گھر کے کام کاج اپنے ہاتھوں سے کرتے۔ اپنے پھٹے کپڑے آپ سی لیتے، اپنے پھٹے جوتے کو خود گانٹھ لیتے، بکریوں کا دودھ اپنے ہاتھوں سے دوہتے۔ مجمع میں بیٹھتے تو سب کے برابر ہو کر بیٹھتے۔ مسجدِ نبوی کے بنانے اور خندق کھودنے میں سب مزدوروں کے ساتھ مل کر آپ ﷺ نے بھی کام کیے۔

غریبوں کے ساتھ آپ ﷺ کا برتاؤ ایسا ہوتا کہ ان کو اپنی غریبی محسوس نہ ہوتی۔ ان کی مدد فرماتے اور ان کی دل جوئی کرتے۔ اکثر دعا مانگتے تھے کہ خداوند مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین اٹھا اور مسکینوں کے ساتھ میرا حشر کر۔

آپ ﷺ مظلوموں کی فریاد سنتے اور انصاف کے ساتھ ان کا حق دلاتے۔ کم زوروں پر رحم کھاتے، بے کسوں کا سہارا بنتے، مقروضوں کا قرض ادا کرتے۔ حکم تھا کہ جو مسلمان مر جائے اور اپنے ذمے قرض چھوڑ جائے تو مجھے اطلاع دو، میں اس کو ادا کر دوں گا اور وہ جو ترکہ چھوڑ جائے وہ وارثوں کا حق ہے، مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔

آپ ﷺ بیماروں کو تسلی دیتے، ان کو دیکھنے جاتے۔ دوست، دشمن اور مومن و کافر کی اس میں کوئی قید نہ تھی۔ گناہ گاروں کو معاف کر دیتے، دشمنوں کے حق میں دعائے خیر فرماتے۔

ہم سایوں کی خبر گیری فرماتے۔ اُن کے ہاں تحفے بھیجتے، اُن کا حق پورا کرنے کی تاکید فرماتے رہتے۔ ایک دن صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا مجمع تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”خدا کی قسم وہ مومن نہ ہو گا۔ خدا کی قسم وہ مومن نہ ہو گا۔“ صحابہؓ نے پوچھا: ”کون یارسول اللہ؟“ فرمایا: ”جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے بچا ہوا نہ ہو۔“

آپ ﷺ پڑوسیوں کے گھر جا کر ان کے کام کر آتے۔ پڑوسیوں کے سوا اور جو بھی آپ ﷺ سے کسی کام کے لیے کہتا، اُس کو پورا فرماتے۔ بیوہ ہو یا مسکین یا کوئی اور ضرورت مند، سب ہی کی ضرورتوں کو آپ ﷺ پورا فرماتے اور دوسروں کے کام کرنے میں عار محسوس نہ فرماتے۔

بچوں سے بڑی محبت فرماتے تھے، ان کو چومتے اور پیار کرتے تھے۔ فصل کا نیا میوہ سب سے کم عمر بچہ جو اس وقت موجود ہوتا، اُس کو دیتے۔ راستے میں بچے مل جاتے تو خود ان کو سلام فرماتے۔

اسلام سے پہلے عورتیں ہمیشہ ذلیل رہی ہیں لیکن ہمارے حضور ﷺ نے اُن پر بہت احسان فرمایا۔ اُن کے حقوق مقرر فرمائے اور اپنے برتاؤ سے ظاہر فرما دیا کہ یہ طبقہ حقیر نہیں ہے بلکہ عزت اور ہمدردی کے لائق ہے۔ آپ ﷺ کے پاس ہر وقت مردوں کا مجمع رہتا تھا۔ عورتیں دلیری اور بے تکلفی سے آپ ﷺ سے مسائل پوچھتیں، لیکن آپ ﷺ برا نہ مانتے، اُن کی خاطر داری کا خیال رکھتے تھے۔

آپ ﷺ ساری دنیا کے لیے رحمت بن کر آئے تھے۔ اس لیے کسی کے ساتھ بھی زیادتی اور نا انصافی کو پسند نہ فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ لوگ جو بے پروائی برتے تھے، وہ بھی آپ ﷺ کو گوارا نہ تھی اور ان بے زبانوں پر جو ظلم ہوتا آیا تھا، اس کو روک دیا۔

”خدا کی قسم! اگر محمد (رسول اللہ ﷺ) کی بیٹی بھی چوری کرتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے۔“

آپ ﷺ کی نظر میں امیر و غریب سب برابر تھے، قبیلہ مخزوم کی ایک عورت چوری کے جرم میں گرفتار ہوئی۔ لوگوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، جن کو آپ ﷺ بہت چاہتے تھے، سفارش کرائی۔ حضور ﷺ نے سب سے فرمایا: ”تم سے پہلے کی قومیں اس لیے برباد ہو گئیں کہ جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب معمولی آدمی جرم کرتا تو اسے سزا پاتے۔“

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس برس آپ ﷺ کی خدمت میں گزارے مگر آپ ﷺ نے کبھی ڈانٹا نہ مارا، نہ یہ پوچھا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور یہ کیوں نہ کیا۔ آپ ﷺ نے تمام عمر کبھی کسی کو نہیں مارا اور یہ کیا عجیب بات ہے کہ ایک فوج کا جرنیل، جس نے مسلسل نو برس لڑائیوں میں گزارے اور جس نے کبھی لڑائی کے میدان سے منھ نہیں موڑا، اپنے دشمن پر کبھی تلوار نہیں اٹھائی اور نہ اپنے ہاتھ سے کسی پر وار کیا۔ اُحد کے میدان میں جب ہر طرف سے آپ ﷺ پر پتھروں، تیروں اور تلواروں کی بارش ہو رہی تھی، آپ ﷺ اپنی جگہ کھڑے تھے اور جاں نثار دائیں بائیں کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔ اسی طرح حنین کی لڑائی میں اکثر مسلمان غازیوں کے پاؤں اکھڑ چکے تھے، حضور ﷺ پہاڑ کی طرح اپنی جگہ کھڑے تھے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کہتے ہیں کہ لڑائی کے اکثر معرکوں میں آپ ﷺ وہاں ہوتے تھے جہاں بڑے بڑے بہادر کھڑا ہونا اپنی شجاعت کا آخری کارنامہ سمجھتے تھے مگر ایسے خوفناک مقاموں میں رہ کر بھی دشمن پر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔

سال ہا سال کی ناکامی کی تکلیفوں کے بعد بھی کبھی مایوسی نے آپ ﷺ کے دل میں راہ نہ پائی اور آخر وہ دن آیا جب آپ ﷺ اکیلے سارے عرب پر چھا گئے۔ مکے کی تکلیفوں سے گھبرا کر ایک صحابی نے درخواست کی: ”یارسول اللہ! آپ ہم لوگوں کے لیے کیوں مدد کی دعا نہیں فرماتے؟“ یہ سن کر آپ ﷺ کا چهرہ مبارک سرخ ہو گیا اور فرمایا: ”تم سے پہلے جو لوگ گزرے، ان کو آروں سے چیر دیا گیا، ان کے بدن پر لوہے کی کنگھیاں چلائی گئیں، جس سے گوشت پوست سب کٹ جاتا لیکن یہ تکلیفیں بھی ان کو حق سے نہ پھیر سکیں۔ خدا کی قسم! دینِ اسلام اپنے کمال کے مرتبے پر پہنچ کر رہے گا یہاں تک کہ صنعا (یمن) سے حضرموت تک ایک سوار اس طرح بے خطر چلا جائے گا کہ اس کو خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا۔“

آپ ﷺ کا وہ عزم اور استقلال یاد ہو گا جب آپ ﷺ نے اپنے چچا کو جواب دیا تھا:
”چا جان! اگر قریش میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں تب بھی حق کے اعلان سے باز نہ رہوں گا۔“

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بھوکا آپ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ ﷺ نے ازواجِ مطہرات میں سے کسی کے ہاں کہلا بھیجا۔ جواب آیا گھر میں پانی کے سوا کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے دوسرے گھروں میں آدمی بھیجا۔ وہاں سے بھی یہی جواب آیا۔ غرض آٹھ نو گھروں میں سے کہیں پانی کے سوا کھانے کی کوئی چیز نہیں نکلی۔

ایک دن آپ ﷺ بھوک میں ٹھیک دو پہر کو گھر سے نکلے۔ راستے میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ملے۔ یہ دونوں بزرگ بھی بھوکے تھے۔ آپ ﷺ ان کو لے کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر آئے۔ ان کو خبر ہوئی تو دوڑے آئے اور باغ سے جا کر کھجوروں کا ایک خوشہ توڑ لائے اور سامنے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا اور سامنے لا کر رکھا۔ آنحضرت ﷺ نے ایک روٹی پر تھوڑا سا گوشت رکھ کر فرمایا: ”یہ فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے یہاں بھجوا دو، اس کو کئی دن سے کھانا نصیب نہیں ہوا۔“

آنحضرت ﷺ جب وفات پائی تو حالت یہ تھی کہ آپ ﷺ کی زرہ، تین سیر جو پر ایک یہودی کے پاس گروی تھی۔ جن کپڑوں میں وفات ہوئی ان میں اوپر تلے پیوند لگے ہوئے تھے۔

مزاج مبارک میں سادگی بہت تھی۔ کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، اٹھنے بیٹھنے کسی چیز میں تکلف پسند نہ تھا۔ جو سامنے آجاتا وہ کھا لیتے۔ پہننے کے لیے موٹا جھوٹا جو مل جاتا اس کو پہن لیتے۔ زمین پر، چٹائی پر، فرش پر، جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے۔ خدا کی نعمتوں سے جائز طور پر فائدہ اٹھانے کی اجازت آپ ﷺ نے ضرور دی لیکن تن پروری اور عیش نہ اپنے لیے پسند فرمایا نہ عام مسلمانوں کے لیے۔

صفائی کا خاص خیال رہتا۔ ایک شخص کو میلے کپڑے پہنے دیکھ کر فرمایا کہ اس سے اتنا نہیں ہوتا کہ کپڑے دھو لیا کرے۔ گفت گو ٹھہر ٹھہر کر فرماتے تھے۔ ایک ایک فقرہ الگ ہوتا۔ کسی کی بات کاٹ کر گفت گو نہ فرماتے۔ جو بات ناپسند ہوتی اس کو ٹال دیتے۔ زیادہ تر چپ رہتے اور بے ضرورت گفت گو نہ فرماتے۔ ہنسی آتی تو مسکرا دیتے۔

دنیا سے بے رغبتی کے باوجود آپ ﷺ خشک مزاجی اور روکھا پن پسند نہ تھا، کبھی کبھی دل چسپی کی باتیں فرماتے۔ ایک بار ایک بڑھیا آپ ﷺ کے پاس آئی اور جنت کے لیے دعا کی خواہش کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بڑھیاں جنت میں نہ جائیں گی۔ اس کو بہت رنج ہوا۔ روتی ہوئی واپس چلی گئی۔ آپ ﷺ نے لوگوں سے کہا کہ اس سے کہہ دو کہ بڑھیاں جنت میں نہ جائیں گی مگر جوان ہو کر جائیں گی۔

آپ ﷺ ہر لحظہ اور ہر لمحہ خدا کی یاد میں لگے رہتے۔ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے غرض ہر وقت اس کی خوشی کی تلاش رہتی اور ہر حالت میں دل اور زبان سے اللہ کی یاد جاری رہتی۔ رات کا بڑا حصہ خدا کی یاد میں بسر ہوتا۔ کبھی پوری پوری رات نماز میں کھڑے رہتے اور بڑی بڑی سورتیں پڑھتے۔

آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے بڑے پیارے پیغمبر تھے، پھر بھی فرمایا کرتے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم کہ میرے اوپر کیا گزرے گی۔ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک بار حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، دیکھا تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے ہیں۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، روتے روتے اس قدر ہچکیاں بندھ گئی تھیں کہ معلوم ہو رہا تھا کہ چکی چل رہی ہے یا ہانڈی ابل رہی ہے۔ ایک بار آپ ﷺ ایک جنازے میں شریک تھے، قبر کھودی جا رہی تھی۔ آپ ﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور یہ منظر دیکھ کر رونے لگے، یہاں تک کہ زمین تر ہو گئی۔ پھر فرمایا: ”بھائیو! اس دن کے لیے سامان کر رکھو۔“

(رحمتِ عالم)
مشکل الفاظ کے معنی:
خاکسار: عاجز، سادہفیاض: بہت زیادہ سخاوت کرنے والا
داد و دہش: خیرات و سخاوتعار محسوس کرنا: شرم محسوس کرنا
جاں نثار: جان قربان کرنے والاعزم و استقلال: پختہ ارادہ اور مضبوطی

Comments

Popular posts from this blog

Class 9 Computer Tech - Unit 1: Introduction to Systems | Urdu Digital Lesson

  A comprehensive digital textbook-style lesson on the introduction to systems for 9th-grade Computer Tech students. Covers General System Theory, computer components, natural vs. design science, and computing networks in Urdu. کلاس: 9 مضمون: کمپیوٹر ٹیک یونٹ نمبر 1 یونٹ 1 سسٹمز کا تعارف اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ: جنرل سسٹم تھیوری، اس کی اقسام اور اجزاء کو بیان کر سکیں اور اس کی وضاحت کر سکیں۔ سسٹم کے تصور بشمول مقاصد، اجزاء اور ترتیل کی وضاحت کر سکیں۔ بیان کر سکیں کہ سسٹم کیا ہے اور مختلف ڈومینز میں اس کا کیا کردار ہے؟ سسٹم کے تصویری اظہار کے لیے تصوراتی ماڈل بنا سکیں۔ کمپیوٹر کو ایک سسٹم کے طور پر بیان کر سکیں بشمول اس کے مقاصد، اجزاء، ڈھانچا اور مختلف اجزاء کے آپس میں تعاملات۔ کمپیوٹنگ سسٹم کے بنیادی مقاصد بشمول ڈیٹا کی پروسیسنگ، ہدایات کا چلنا اور صارف کو انٹرفیس مہیا کرنا وغیرہ کو سمجھ سکیں۔ کمپیوٹر سسٹم کے اجزا کا کردار اور ان کی اہمیت پہچان سکیں۔ تعارف یہ باب سسٹم کے نظریہ کا جائزہ...

Understanding Machine Learning: How Machines Learn with Simple Examples - EOLS Lesson No: N/A | Class: اے آئی | Subject: AI کا بنیادی تعارف | Topic: مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔ | Theme: AI کیا ہے؟

  Discover how Machine Learning works in simple Urdu. Learn the science behind AI, its step-by-step learning process, and real-life examples like YouTube and Spam filters. مضمون: AI کا بنیادی تعارف کلاس: اے آئی  AI کیا ہے؟ جادو نہیں سائنس! - مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں حاصلاتِ تعلم (Learning Objectives) آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا۔ مشین لرننگ کے بنیادی عمل سے واقفیت حاصل کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کی مثالوں کی پہچان کرنا۔ جب ہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نام سنتے ہیں، تو اکثر ذہن میں خودکار روبوٹس یا ایسی فلمی دنیا آتی ہے جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچتی ہیں۔ بہت سے لوگ اسے "جادو" سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ خالص سائنس اور ریاضی کا امتزاج ہے۔ Excellence Online Learning School (EOLS) کے اس بلاگ میں ہم سمجھیں گے کہ مشینیں کیسے سیکھتی ہیں اور یہ عمل کتنا سادہ ہے۔ مشینوں کے سیکھنے کا عمل اور سادہ مثالیں۔  مشین لرننگ (Machine Learning) کیا ہے؟ مشین لرننگ اے آئی کی وہ شاخ ہے جو کمپیوٹر کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی خاص پروگرامنگ کے بغیر ڈی...

Class 4 General Science Lesson 1: Characteristics of Living Things - EOLS Lesson No: Lesson 1 | Class: 4 | Subject: General Science | Type: ڈیجیٹل بک ڈیزائن

  Explore the fundamental characteristics of living things, including growth, respiration, and reproduction. Learn the similarities and differences between plants and animals based on the SNC Class 4 Science curriculum. General Science Class 4 Lesson 1 Characteristics and Life Process of Organisms حاصلاتِ تعلم By the end of this lesson, students will be able to identify the characteristics of living things and differentiate between major groups of organisms. On the way from your home to school, you see many things daily. Make a list of these things. Decide which of them are living things and which are non-living? Characteristics of Living Things Living things use food to remain alive. Living things breathe. Living things can move on their own. Living things reproduce offsprings of their own kinds. Living things can grow. Living things have the ability to sense. Can you think of some more characteristics of living things? Point to Ponder! List down a few characteristics of a vehicle...