Explore the beautiful character of Prophet Muhammad ﷺ in this Class 9 Urdu Lesson 3, "Akhlaq-e-Hasna." A detailed, visually appealing digital book format covering his generosity, justice, and simplicity.
اخلاقِ حسنہ
- ۱۔ طلبہ کو اعلانِ نبوت سے پہلے عربوں میں جاری رسوم و روایات سے آگاہ کرنا۔
- ۲۔ طلبہ کو اس امر سے آگاہ کہ آپ ﷺ نے تبلیغِ اسلام کے آغاز میں بڑی مشکلات کا سامنا کیا۔
- ۳۔ طلبہ کو سیرت نگاری اور سیرتِ نبوی کے چیدہ چیدہ نکات سے روشناس کرنا۔
- ۴۔ طلبہ کو مولانا شبلی نعمانی کی ”سیرت النبی“ کو مرتب کرنے میں سید سلیمان ندوی کی خدمات سے آگاہ کرنا۔
- ۵۔ طلبہ کے دلوں میں اسلامی جذبہ پیدا کرنا اور طلبہ کو اپنے کردار اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب دینا۔
- ۶۔ نثر پارے کی تشریح کرنے کا انداز سکھانا۔
کسی نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ حضور ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ انھوں نے کہا: ”کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ہے؟ جو کچھ قرآن میں ہے وہ حضور ﷺ کے اخلاق تھے۔“ غرض آپ ﷺ کی ساری زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر تھی اور یہ بھی آپ ﷺ کا ایک معجزہ ہے۔ خود قرآن نے اس کی شہادت دی اور کہا:
حضور ﷺ نہایت خاکسار، ملنسار، مہربان اور رحم دل تھے۔ چھوٹے بڑے سب سے محبت کرتے، نہایت سخی، فیاض اور داد و دہش والے تھے۔ امکان بھر سب کی درخواست پوری کرتے۔ تمام عمر کسی کے سوال پر ”نہیں“ نہیں کہا۔ خود بھوکے رہتے اور دوسروں کو کھلاتے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی کی شادی ہوئی، اُن کے پاس ولیمے کا کچھ سامان نہ تھا۔ حضور ﷺ نے اُن سے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جاؤ اور آٹے کی ٹوکری مانگ لاؤ، حالاں کہ اس آٹے کے سوا شام کے لیے گھر میں کچھ بھی نہ تھا۔
فیاضی اور دنیا کے مال سے بے تعلقی کا یہ عالم تھا کہ گھر میں نقد قسم کی کوئی چیز بھی ہوتی تو جب تک وہ سب خیرات نہ کر دی جاتی آپ ﷺ اکثر گھر میں آرام نہ فرماتے۔ ایک بار فدک کے رئیس نے چار اونٹوں پر غلہ بھیجا۔ اس کو بیچ کر قرض ادا کیا گیا، پھر بھی بچ رہا۔ آپ ﷺ نے کہا: جب تک کچھ بھی باقی رہے گا، میں گھر میں نہیں جاسکتا، رات مسجد میں بسر کی۔ دوسرے دن جب معلوم ہوا کہ وہ غلہ تقسیم ہو چکا ہے تب گھر میں تشریف لے گئے۔
حضور ﷺ بڑے مہمان نواز تھے۔ آپ ﷺ کے یہاں مسلمان، مشرک اور کافر سب ہی مہمان ہوتے۔ آپ ﷺ سب کی خاطر کرتے اور خود ہی سب کی خدمت کرتے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ مہمان آجاتے اور گھر میں جو کچھ موجود ہوتا، وہ اُن کو کھلا پلا دیا جاتا اور پورا گھر فاقہ کرتا۔ راتوں کو اٹھ کر مہمانوں کی دیکھ بھال فرماتے کہ ان کو کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔ گھر میں رہتے تو گھر کے کام کاج اپنے ہاتھوں سے کرتے۔ اپنے پھٹے کپڑے آپ سی لیتے، اپنے پھٹے جوتے کو خود گانٹھ لیتے، بکریوں کا دودھ اپنے ہاتھوں سے دوہتے۔ مجمع میں بیٹھتے تو سب کے برابر ہو کر بیٹھتے۔ مسجدِ نبوی کے بنانے اور خندق کھودنے میں سب مزدوروں کے ساتھ مل کر آپ ﷺ نے بھی کام کیے۔
غریبوں کے ساتھ آپ ﷺ کا برتاؤ ایسا ہوتا کہ ان کو اپنی غریبی محسوس نہ ہوتی۔ ان کی مدد فرماتے اور ان کی دل جوئی کرتے۔ اکثر دعا مانگتے تھے کہ خداوند مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین اٹھا اور مسکینوں کے ساتھ میرا حشر کر۔
آپ ﷺ مظلوموں کی فریاد سنتے اور انصاف کے ساتھ ان کا حق دلاتے۔ کم زوروں پر رحم کھاتے، بے کسوں کا سہارا بنتے، مقروضوں کا قرض ادا کرتے۔ حکم تھا کہ جو مسلمان مر جائے اور اپنے ذمے قرض چھوڑ جائے تو مجھے اطلاع دو، میں اس کو ادا کر دوں گا اور وہ جو ترکہ چھوڑ جائے وہ وارثوں کا حق ہے، مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔
آپ ﷺ بیماروں کو تسلی دیتے، ان کو دیکھنے جاتے۔ دوست، دشمن اور مومن و کافر کی اس میں کوئی قید نہ تھی۔ گناہ گاروں کو معاف کر دیتے، دشمنوں کے حق میں دعائے خیر فرماتے۔
ہم سایوں کی خبر گیری فرماتے۔ اُن کے ہاں تحفے بھیجتے، اُن کا حق پورا کرنے کی تاکید فرماتے رہتے۔ ایک دن صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا مجمع تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”خدا کی قسم وہ مومن نہ ہو گا۔ خدا کی قسم وہ مومن نہ ہو گا۔“ صحابہؓ نے پوچھا: ”کون یارسول اللہ؟“ فرمایا: ”جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے بچا ہوا نہ ہو۔“
آپ ﷺ پڑوسیوں کے گھر جا کر ان کے کام کر آتے۔ پڑوسیوں کے سوا اور جو بھی آپ ﷺ سے کسی کام کے لیے کہتا، اُس کو پورا فرماتے۔ بیوہ ہو یا مسکین یا کوئی اور ضرورت مند، سب ہی کی ضرورتوں کو آپ ﷺ پورا فرماتے اور دوسروں کے کام کرنے میں عار محسوس نہ فرماتے۔
بچوں سے بڑی محبت فرماتے تھے، ان کو چومتے اور پیار کرتے تھے۔ فصل کا نیا میوہ سب سے کم عمر بچہ جو اس وقت موجود ہوتا، اُس کو دیتے۔ راستے میں بچے مل جاتے تو خود ان کو سلام فرماتے۔
اسلام سے پہلے عورتیں ہمیشہ ذلیل رہی ہیں لیکن ہمارے حضور ﷺ نے اُن پر بہت احسان فرمایا۔ اُن کے حقوق مقرر فرمائے اور اپنے برتاؤ سے ظاہر فرما دیا کہ یہ طبقہ حقیر نہیں ہے بلکہ عزت اور ہمدردی کے لائق ہے۔ آپ ﷺ کے پاس ہر وقت مردوں کا مجمع رہتا تھا۔ عورتیں دلیری اور بے تکلفی سے آپ ﷺ سے مسائل پوچھتیں، لیکن آپ ﷺ برا نہ مانتے، اُن کی خاطر داری کا خیال رکھتے تھے۔
آپ ﷺ ساری دنیا کے لیے رحمت بن کر آئے تھے۔ اس لیے کسی کے ساتھ بھی زیادتی اور نا انصافی کو پسند نہ فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ لوگ جو بے پروائی برتے تھے، وہ بھی آپ ﷺ کو گوارا نہ تھی اور ان بے زبانوں پر جو ظلم ہوتا آیا تھا، اس کو روک دیا۔
آپ ﷺ کی نظر میں امیر و غریب سب برابر تھے، قبیلہ مخزوم کی ایک عورت چوری کے جرم میں گرفتار ہوئی۔ لوگوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، جن کو آپ ﷺ بہت چاہتے تھے، سفارش کرائی۔ حضور ﷺ نے سب سے فرمایا: ”تم سے پہلے کی قومیں اس لیے برباد ہو گئیں کہ جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب معمولی آدمی جرم کرتا تو اسے سزا پاتے۔“
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس برس آپ ﷺ کی خدمت میں گزارے مگر آپ ﷺ نے کبھی ڈانٹا نہ مارا، نہ یہ پوچھا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور یہ کیوں نہ کیا۔ آپ ﷺ نے تمام عمر کبھی کسی کو نہیں مارا اور یہ کیا عجیب بات ہے کہ ایک فوج کا جرنیل، جس نے مسلسل نو برس لڑائیوں میں گزارے اور جس نے کبھی لڑائی کے میدان سے منھ نہیں موڑا، اپنے دشمن پر کبھی تلوار نہیں اٹھائی اور نہ اپنے ہاتھ سے کسی پر وار کیا۔ اُحد کے میدان میں جب ہر طرف سے آپ ﷺ پر پتھروں، تیروں اور تلواروں کی بارش ہو رہی تھی، آپ ﷺ اپنی جگہ کھڑے تھے اور جاں نثار دائیں بائیں کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔ اسی طرح حنین کی لڑائی میں اکثر مسلمان غازیوں کے پاؤں اکھڑ چکے تھے، حضور ﷺ پہاڑ کی طرح اپنی جگہ کھڑے تھے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کہتے ہیں کہ لڑائی کے اکثر معرکوں میں آپ ﷺ وہاں ہوتے تھے جہاں بڑے بڑے بہادر کھڑا ہونا اپنی شجاعت کا آخری کارنامہ سمجھتے تھے مگر ایسے خوفناک مقاموں میں رہ کر بھی دشمن پر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
سال ہا سال کی ناکامی کی تکلیفوں کے بعد بھی کبھی مایوسی نے آپ ﷺ کے دل میں راہ نہ پائی اور آخر وہ دن آیا جب آپ ﷺ اکیلے سارے عرب پر چھا گئے۔ مکے کی تکلیفوں سے گھبرا کر ایک صحابی نے درخواست کی: ”یارسول اللہ! آپ ہم لوگوں کے لیے کیوں مدد کی دعا نہیں فرماتے؟“ یہ سن کر آپ ﷺ کا چهرہ مبارک سرخ ہو گیا اور فرمایا: ”تم سے پہلے جو لوگ گزرے، ان کو آروں سے چیر دیا گیا، ان کے بدن پر لوہے کی کنگھیاں چلائی گئیں، جس سے گوشت پوست سب کٹ جاتا لیکن یہ تکلیفیں بھی ان کو حق سے نہ پھیر سکیں۔ خدا کی قسم! دینِ اسلام اپنے کمال کے مرتبے پر پہنچ کر رہے گا یہاں تک کہ صنعا (یمن) سے حضرموت تک ایک سوار اس طرح بے خطر چلا جائے گا کہ اس کو خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا۔“
آپ ﷺ کا وہ عزم اور استقلال یاد ہو گا جب آپ ﷺ نے اپنے چچا کو جواب دیا تھا:
”چا جان! اگر قریش میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں تب بھی حق کے اعلان سے باز نہ رہوں گا۔“
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بھوکا آپ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ ﷺ نے ازواجِ مطہرات میں سے کسی کے ہاں کہلا بھیجا۔ جواب آیا گھر میں پانی کے سوا کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے دوسرے گھروں میں آدمی بھیجا۔ وہاں سے بھی یہی جواب آیا۔ غرض آٹھ نو گھروں میں سے کہیں پانی کے سوا کھانے کی کوئی چیز نہیں نکلی۔
ایک دن آپ ﷺ بھوک میں ٹھیک دو پہر کو گھر سے نکلے۔ راستے میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ملے۔ یہ دونوں بزرگ بھی بھوکے تھے۔ آپ ﷺ ان کو لے کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر آئے۔ ان کو خبر ہوئی تو دوڑے آئے اور باغ سے جا کر کھجوروں کا ایک خوشہ توڑ لائے اور سامنے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا اور سامنے لا کر رکھا۔ آنحضرت ﷺ نے ایک روٹی پر تھوڑا سا گوشت رکھ کر فرمایا: ”یہ فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے یہاں بھجوا دو، اس کو کئی دن سے کھانا نصیب نہیں ہوا۔“
آنحضرت ﷺ جب وفات پائی تو حالت یہ تھی کہ آپ ﷺ کی زرہ، تین سیر جو پر ایک یہودی کے پاس گروی تھی۔ جن کپڑوں میں وفات ہوئی ان میں اوپر تلے پیوند لگے ہوئے تھے۔
مزاج مبارک میں سادگی بہت تھی۔ کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، اٹھنے بیٹھنے کسی چیز میں تکلف پسند نہ تھا۔ جو سامنے آجاتا وہ کھا لیتے۔ پہننے کے لیے موٹا جھوٹا جو مل جاتا اس کو پہن لیتے۔ زمین پر، چٹائی پر، فرش پر، جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے۔ خدا کی نعمتوں سے جائز طور پر فائدہ اٹھانے کی اجازت آپ ﷺ نے ضرور دی لیکن تن پروری اور عیش نہ اپنے لیے پسند فرمایا نہ عام مسلمانوں کے لیے۔
صفائی کا خاص خیال رہتا۔ ایک شخص کو میلے کپڑے پہنے دیکھ کر فرمایا کہ اس سے اتنا نہیں ہوتا کہ کپڑے دھو لیا کرے۔ گفت گو ٹھہر ٹھہر کر فرماتے تھے۔ ایک ایک فقرہ الگ ہوتا۔ کسی کی بات کاٹ کر گفت گو نہ فرماتے۔ جو بات ناپسند ہوتی اس کو ٹال دیتے۔ زیادہ تر چپ رہتے اور بے ضرورت گفت گو نہ فرماتے۔ ہنسی آتی تو مسکرا دیتے۔
دنیا سے بے رغبتی کے باوجود آپ ﷺ خشک مزاجی اور روکھا پن پسند نہ تھا، کبھی کبھی دل چسپی کی باتیں فرماتے۔ ایک بار ایک بڑھیا آپ ﷺ کے پاس آئی اور جنت کے لیے دعا کی خواہش کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بڑھیاں جنت میں نہ جائیں گی۔ اس کو بہت رنج ہوا۔ روتی ہوئی واپس چلی گئی۔ آپ ﷺ نے لوگوں سے کہا کہ اس سے کہہ دو کہ بڑھیاں جنت میں نہ جائیں گی مگر جوان ہو کر جائیں گی۔
آپ ﷺ ہر لحظہ اور ہر لمحہ خدا کی یاد میں لگے رہتے۔ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے غرض ہر وقت اس کی خوشی کی تلاش رہتی اور ہر حالت میں دل اور زبان سے اللہ کی یاد جاری رہتی۔ رات کا بڑا حصہ خدا کی یاد میں بسر ہوتا۔ کبھی پوری پوری رات نماز میں کھڑے رہتے اور بڑی بڑی سورتیں پڑھتے۔
آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے بڑے پیارے پیغمبر تھے، پھر بھی فرمایا کرتے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم کہ میرے اوپر کیا گزرے گی۔ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک بار حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، دیکھا تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے ہیں۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، روتے روتے اس قدر ہچکیاں بندھ گئی تھیں کہ معلوم ہو رہا تھا کہ چکی چل رہی ہے یا ہانڈی ابل رہی ہے۔ ایک بار آپ ﷺ ایک جنازے میں شریک تھے، قبر کھودی جا رہی تھی۔ آپ ﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور یہ منظر دیکھ کر رونے لگے، یہاں تک کہ زمین تر ہو گئی۔ پھر فرمایا: ”بھائیو! اس دن کے لیے سامان کر رکھو۔“
| خاکسار: عاجز، سادہ | فیاض: بہت زیادہ سخاوت کرنے والا |
| داد و دہش: خیرات و سخاوت | عار محسوس کرنا: شرم محسوس کرنا |
| جاں نثار: جان قربان کرنے والا | عزم و استقلال: پختہ ارادہ اور مضبوطی |
Comments
Post a Comment