Explore the summary of Class 12 Urdu Lesson 5 "Akbari ki Hamaqaten" by Molvi Nazir Ahmad. Learn about Akbari's foolishness and the swindler Juggan's trickery. Created by EOLS.
اکبری کی حماقتیں
حاصلاتِ تعلم
- اردو کے پہلے ناول نگار مولوی نذیر احمد کے اسلوب سے واقفیت حاصل کرنا۔
- کردار نگاری اور مکالمہ نگاری کے فن کو سمجھنا۔
- معاشرتی برائیوں (جہالت اور توہم پرستی) کے نتائج پر غور کرنا۔
اتفاق سے ان دنوں ایک کٹنی شہر میں وارد تھی اور ہر جگہ اس کا غل تھا۔ محمد عاقل نے بھی بی بی سے کہہ دیا تھا کہ کسی اجنبی عورت کو گھر میں مت آنے دینا، ان دنوں ایک کٹنی آئی ہوئی ہے، کئی گھروں کو لوٹ چکی ہے لیکن مزاج دار شدت سے بے وقوف تھی۔ اس کی عادت تھی کہ ہر ایک سے جلد گھل مل جانا۔ ایک دن وہی کٹنی جُگن کا بھیس بنا، اس گلی میں آئی۔ یہ مکار جُگن بے وقوف عورتوں کو پھسلانے کے لیے طرح طرح کے تبرکات اور صدہا قسم کی چیزیں اپنے پاس رکھا کرتی تھی: تسبیح، خاک شفا، زمزمیاں، مدینہ منورہ کی کھجوریں، کوہِ طور کا سرمہ، خانہ کعبہ کے غلاف کا ٹکڑا، عقیق البحر اور مونگے کے دانے اور نادِ علی، پنج سورہ اور بہت سی دعائیں۔ گلی میں آ کر جو اس نے اپنی دکان کھولی تو بہت سی لڑکیاں جمع ہو گئیں۔ مزاج دار نے بھی سنا۔ زلفن سے کہا ’’گلی سے اٹھنے لگے تو جُگن کو یہاں بلالانا۔ ہم بھی تبرکات کی زیارت کریں گے۔‘‘
زلفن جا کھڑی ہوئی اور جُگن کو بلالائی۔ مزاج دار نے بہت خاطر داری سے جُگن کو پاس بٹھایا اور سب چیزیں دیکھیں۔ سرمہ اور نادِ علی دو چیزیں پسند کیں۔ جُگن نے مزاج دار کو باتوں ہی باتوں میں تاڑ لیا کہ یہ عورت جلد ڈھب پر چڑھ جائے گی۔ ایک پیسے کا بہت سا سرمہ تول دیا اور دو آنے کو نادِ علی حوالے کی اور فیروزے کی ایک انگوٹھی تبرک کے طور پر اپنے پاس سے مفت دی۔ مزاج دار ریجھ گئی۔ اس کے بعد جُگن نے سمندر کا حال، عرب کی کیفیت اور دل سے جوڑ کر دو چار باتیں ایسی کیں کہ مزاج دار نے کمال شوق سے سنا اور اس کی طرف ایک خاص التفات کیا۔ جُگن نے پوچھا ’’کیوں بی تمھارے کوئی بال بچے نہیں؟‘‘
مزاج دار نے آہ کھینچ کر کہا: ’’ہماری تقدیر ایسی کہاں تھی؟‘‘
جُگن نے پوچھا: ’’بیاہ کو کتنے دن ہوئے؟‘‘
مزاج دار نے کہا: ’’ابھی برس روز نہیں ہوا۔‘‘
مزاج دار کی بے عقلی کا اب تو جُگن کو یقین ہوا اور دل میں کہنے لگی کہ اس نے تو اولاد کا نام سن کر ایسی آہ کھینچی جیسے برسوں کا امیدوار۔ جُگن نے کہا: ’’ناامیدی کی بات نہیں۔ تمھارے تو اتنے بچے ہوں گے کہ تم سنبھال بھی نہ سکوگی۔ البتہ بالفعل اکیلے گھر میں جی گھبراتا ہوگا۔ میاں کا کیا حال ہے؟‘‘
مزاج دار نے کہا: ’’ہمیشہ مجھ سے ناخوش رہا کرتے ہیں۔‘‘
غرض پہلی ہی ملاقات میں مزاج دار نے جُگن کے ساتھ ایسی بے تکلفی کی کہ اپنا حال جزو و کل اس سے کہہ دیا اور جُگن نے باتوں ہی باتوں میں تمام بھید معلوم کر لیا۔ ایک پہر کامحل جُگن بیٹھی رہی۔ رخصت ہونے لگی تو مزاج دار نے بہت منت کی کہ اچھی بی جُگن، اب کب آؤ گی؟ جُگن نے کہا: ’’میری بھانجی موم گروں کے چھتے میں رہتی ہے اور بہت بیمار ہے۔ اسی کے علاج کے واسطے میں آگرے سے آئی ہوں۔ اس کے دوا معالجے سے فرصت کم ہوتی ہے، مگر ان شاء اللہ دوسرے تیسرے دن تم کو دیکھ جایا کروں گی۔‘‘
اگلے دن جُگن پھر آ موجود ہوئی اور ایک ریشمی ازار بند لیتی آئی۔ مزاج دار دور سے جُگن کو آتے دیکھ کر خوش ہو گئی اور پوچھا: ’’یہ ازار بند کیسا ہے؟‘‘
جُگن نے کہا: ’’بکاؤ ہے۔‘‘
مزاج دار نے پوچھا: ’’کتنے کا ہے؟‘‘
جُگن نے کہا: ’’چار آنے کا۔ محلے میں ایک بیگم رہتی ہیں، اب غریب ہو گئی ہیں۔ اسباب بیچ بیچ کر گزر کرتی ہیں۔ میں اکثر ان کی چیزیں بیچ دیا کرتی ہوں۔‘‘
مزاج دار اتنا سستا ازار بند دیکھ کر لوٹ ہو گئی۔ فوراً پیسے نکال، جُگن کے ہاتھ پر رکھ دیے اور بہت گڑ گڑا کر کہا: ’’اچھی بی! جو چیز بکاؤ ہوا کرے، پہلے مجھ کو دکھا دیا کرو۔‘‘
جُگن نے کہا: ’’بہت اچھا، پہلے تم، پیچھے اور۔‘‘
اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوا کیں۔ چلتے ہوئے جُگن نے ایک بٹوا نکالا، اس میں کپڑے اور کاغذ کی کئی تہوں میں تھوڑی لونگیں تھیں، ان میں سے دو لونگیں جُگن نے مزاج دار کو دیں اور کہا کہ دنیا میں ملاقات اور محبت اس واسطے ہوا کرتی ہے کہ ایک دوسرے کو فائدہ ہو، یہ دو لونگیں میں تم کو دیتی ہوں، ایک تو تم اپنی چوٹی میں باندھ لو، دوسری بہتر تھا کہ تمھارے میاں کی پگڑی میں رہتی، پر تمھارے میاں شاید شبہ کریں، خیر تکیے میں سی دو اور ان کا اثر آج ہی دیکھ لینا لیکن اتنی احتیاط کرنا کہ پاک صاف جگہ میں رہیں اور اپنے قد کے برابر ایک کلاوہ مجھ کو ناپ دو۔ میں تم کو ایک گنڈا بنوا لا دوں گی۔ میں جب حج کو گئی تھی تو اسی جہاز میں ایک بھوپال کی بیگم بھی سوار تھیں۔ شاید تم نے ان کا نام بھی سنا ہو، بلقیس جہانی بیگم، سب کچھ خدا نے ان کو دے رکھا تھا، دولت کی کچھ انتہا نہ تھی، نوکر چاکر، لونڈی، غلام پالکی نالکی سب کچھ تھا، ایک تو اولاد کی
طرف سے رنجیدہ رہا کرتی تھیں، کوئی بچہ نہ تھا، دوسرے نواب صاحب کو ان کی طرف مطلق التفات نہ تھا، شاید اولاد نہ ہونے کے سبب محبت نہ کرتے ہوں، ورنہ بیگم صورت میں چندے آفتاب، چندے ماہتاب اور حسن و دولت پر مزاج ایسا سادہ کہ ہم جیسے ناچیزوں کو برابر بٹھانا اور پوچھنا۔ بیگم کو فقیروں پر پرلے درجے کا اعتقاد تھا۔ ایک دفعہ سنا کہ تین کوس پر کوئی کامل وارد ہے۔ اندھیری رات میں گھر سے پیادہ پا ان کے پاس گئیں اور پہر تک ہاتھ باندھے کھڑی رہیں۔ فقیروں کے نام کے قربان جائیے۔ ایک مرتبہ جو شاہ صاحب نے آنکھ اٹھا کر دیکھا، فرمایا کیا کہتی مائی رات کو حکم ملے گا۔ بیگم کو خواب میں بشارت ہوئی کہ حج کو جاؤ اور مراد کا موتی سمندر سے نکال لا، صبح کو اٹھ کر حج کی تیاریاں ہونے لگیں، پانچ سو مسکین بیگم نے آپ کرایے دے جہاز پر سوار کرائے۔ ان میں سے ایک میں بھی تھی، ہر وقت کا پاس رہنا، بیگم صاحبہ (الہی دونوں جہان میں سرخ رو) مجھ پر بہت مہربانی کرنے لگیں اور سہیلی کہا کرتی تھیں، دس دن تک برابر جہاز پانی میں چلا، گیارھویں دن بیچ سمندر کے ایک پہاڑ دکھائی دیا۔ ناخدا نے کہا: ’’کوہِ حبشہ یہی ہے۔‘‘ ایک بڑا کامل فقیر اس پر رہتا تھا، جو گیا بامراد آیا، بیگم صاحبہ نے ناخدا سے کہا کہ کسی طرح مجھ کو اس پہاڑ پر پہنچاؤ، ناخدا نے کہا، حضور! جہاز تو پہاڑ تک نہیں پہنچ سکتا، البتہ اگر آپ ارشاد کریں تو جہاز کو لنگر کریں اور آپ کو ایک کشتی میں بٹھا کر لے چلیں۔ بیگم نے کہا، خیر یہ سہی۔ پانچ عورتیں بیگم کے ساتھ کوہِ حبشہ پر گئیں، ایک میں اور چار اور۔ پہاڑ پر پہنچے تو عجیب طرح کی خوشبو مہک رہی تھی۔ چلتے چلتے شاہ صاحب تک پہنچے۔ ہو کا مقام تھا۔ نہ آدمی نہ آدم زاد۔ تن تنہا شاہ صاحب ایک غار میں رہتے تھے۔ کیسی نورانی شکل تھی، جیسے فرشتہ۔ ہم کو دعا دی، بیگم کو بارہ لونگیں دیں اور کچھ پڑھ کر دم کر دیا۔ مجھ سے کہا، چلی جا۔ آگرے اور دلی میں لوگوں کے کام بنا۔ بیٹی، ان بارہ لوگوں میں سے دو لونگیں یہ ہیں۔ ہم سب حج کر کے لوٹے تو نواب صاحب یا تو بیگم کی بات نہ پوچھتے تھے، یا یہ نوبت ہوئی کہ ایک مہینے آگے سے بمبئی میں آکر بیگم کو لینے کو پڑے تھے، جوں ہی بیگم نے جہاز پر سے پاؤں اتارا، نواب صاحب نے اپنا سر بیگم کے قدموں میں رکھ دیا اور رو رو کر خطا معاف کرائی۔ چوتھے برس میں بھوپال میں حج سے واپس آ کر ٹھہری۔ فقیر کی دعا کی برکت سے لگاتا راور تلے اللہ رکھے چار بیٹے بیگم کے میرے رہتے ہو چکے تھے۔ پھر مجھ کو اپنا دیس یاد آیا۔ بیگم سے اجازت مانگی۔ بہت روکا، میں نے کہا کہ شاہ صاحب نے مجھ کو دلی، آگرے کی خدمت سپرد کی ہے۔ مجھ کو وہاں جانا ضرور ہے۔ یہ سن کر بیگم نے چاروناچار مجھ کو رخصت کیا۔
دو لونگیں، اس کے ساتھ دورِ ورق کی حکایتِ دلچسپ۔ مزاج دار دل و جان سے معتقد ہو گئیں۔ جُگن تو لونگیں دے کر رخصت ہوئی، مزاج دار بہو نے غسل کر، کپڑے بدل، خوشبو لگا، ایک لونگ بسم اللہ کر کے اپنی چوٹی میں باندھی اور میاں کے پلنگ کی چادر اور تکیوں کے غلاف بدل ایک لونگ اسی تکیے میں رکھ دی۔ محمد عاقل جو گھر آیا، بی بی کو دیکھا صاف ستھری، پلنگ کی چادر بے حد بدلی ہوئی۔ خوش ہوا اور التفات کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔
مزاج دار نے کہا: ’’دیکھو ہم نے آج ایک چیز مول لی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر ازار بند دکھایا۔
محمد عاقل نے کہا: ’’کتنے کو لیا ہے؟‘‘
مزاج دار نے کہا: ’’تم آنکو، کتنے کا ہے؟‘‘
وہ ازار بند خاص لاہور کا بنا ہوا نہایت عمدہ تھا۔ چوڑا اچکلا، کلابتو کی لچھے دار ہڑیں۔ محمد عاقل نے کہا ’’دو روپے سے کسی طرح کم نہیں۔‘‘
مزاج دار: چار آنے کو لیا ہے۔
محمد عاقل: سچ کہو۔
مزاج دار: تمھارے سر کی قسم، چار ہی آنے کو لیا ہے۔
محمد عاقل: بہت سستا ہے۔ کہاں سے مل گیا؟
مزاج دار: ایک جُگن بڑی نیک بخت ہے۔ بہت دنوں سے گلی میں آیا کرتی ہے۔ کسی بیگم کا ہے۔ بیچنے کو لائی تھی۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
طمع ایسی چیز ہے کہ بڑا سیانا آدمی بھی دھوکا کھا جاتا ہے۔ جنگلی جانور، بینا، طوطا، لال، بلبل آدمی کی شکل سے بھاگتے ہیں، لیکن دانے کی طمع سے جال میں پھنس جاتے ہیں اور زندگی بھر قفس میں قید رہتے ہیں۔اسی طرح محمد عاقل اپنا فائدہ دیکھ کر خوش ہوا اور جب مزاج دار نے کہا کہ وہ جُگن بیگم کا تمام اسباب جو بکنے کو نکلے گا، میرے پاس لانے کا وعدہ کر گئی ہے تو محمد عاقل نے کہا: ’’ضرور دیکھنا چاہیے، لیکن ایسا نہ ہو چوری کا مال ہو، پیچھے خرابی پڑے اور ہاں جُگن کوئی ٹھگنی نہ ہو۔‘‘
مزاج دار نے کہا: ’’خدا خدا کرو! وہ جُگن ایسی نہیں ہے۔‘‘
غرض بات گئی گزری ہوئی ۔ محمد عاقل سے جو آج ایسی باتیں ہوئیں لوگوں پر مزاج دار کا اعتقاد جم گیا۔ اگلے دن زلفن کو بھیج جُگن کو بلوایا اور آج مزاج دار بیٹی بنیں اور جُگن کو ماں بنایا۔ رات کے وقت محمد عاقل سے پھر جُگن کا ذکر آیا۔ محمد عاقل نے کہا: ’’دیکھو، ہوشیار رہنا۔ اس بھیس میں کٹلیاں اور ٹھگلیاں بہت ہوا کرتی ہیں۔‘‘ لیکن طمع نے خود محمد عاقل کی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ اتنی موٹی بات وہ نہ سمجھا کہ دو روپے کا مال چار آنے میں کوئی بے وجہ بھی دیتا ہے۔ محمد عاقل کو مناسب تھا کہ قطعاً جُگن کے آنے کی ممانعت کرتا اور سب چیزیں اس کی پھروا دیتا۔ مزاج دار کو اتنی عقل کہاں تھی کہ اس تہہ کو سمجھتی۔ کئی دن کے بعد مزاج دار نے جُگن سے پوچھا: ’’کیوں بی، آج کل بیگم کا کوئی سامان نہیں لاتیں؟‘‘
جُگن نے جان لیا کہ اس کو اچھی چاٹ لگ گئی ہے۔ کہا: ’’تمھارے ڈھب کی کوئی چیز نکلے تو لاؤں۔‘‘ دو چار دن کے بعد جھوٹے موتیوں کی ایک جوڑی لائی اور کہا: ’’لوبی، خود بیگم کی نتھ کے موتی ہیں۔ نہیں معلوم ہزار کی جوڑی ہے یا پانسو کی۔ پتال جوہری کی دکان پر میں نے دکھائی تھی، لٹو ہو گیا۔ دو سو روپے زبردستی میرے پلے باندھ دیتا تھا۔ میں بیگم سے پچاس روپے میں لائی ہوں۔ تم لے لو۔ پھر ایسا مال نہ ملے گا۔‘‘
مزاج دار نے کہا: ’’پچاس روپے نقد تو میرے پاس نہیں ہیں۔‘‘
جُگن نے کہا: ’’کیا ہوا بیٹی۔ پہنچیاں بیچ کر لے لو۔ نہیں تو آج یہ موتی بک جائیں گے۔‘‘ جُگن نے ایسے ڈھب سے کہا کہ مزاج دار فوراً زیور کا صندوقچہ اٹھا لائی اور جُگن کو پہنچیاں نکال کر حوالے کر دیں۔ جُگن نے مزاج دار کا زیور دیکھ کر کہا ’’اے ہے! کیسی بے احتیاطی سے زیور مولی گاجر کی طرح ڈال رکھا ہے۔ بیٹی، دھاگہ ماسی میں ڈور ڈلواؤ۔ بالی پتے، گلوبند، بازوبند میلے چکٹ ہو گئے ہیں۔ میل سونے کو کھائے جاتا ہے۔ ان کو اجلواؤ۔‘‘
مزاج دار نے کہا: ’’کون ڈورا ڈلوائے اور کون اجلوا کر لائے۔ ان سے کہتی ہوں تو وہ کہتے ہیں مجھے فرصت نہیں۔‘‘
جُگن نے کہا: ’’اوئی بیٹی! یہ کون سا بڑا کام ہے۔ لو، موتی رہنے دو۔ میں ابھی ڈورا ڈلوا دوں اور جو زیور میلا ہے، نکال دو۔ میں ابھی اجلوا دوں۔‘‘
مزاج دار نے سب زیور حوالے کیا۔ جُگن نے کہا: ’’زلفن کو بھی ساتھ کر دو۔ سنار کے پاس بیٹھی رہے گی۔ میں پٹوے سے ڈورے ڈلواؤں گی۔‘‘
مزاج دار نے کہا: ’’اچھا۔‘‘ یہ کہہ کر زلفن کو آواز دی، آئی تو جُگن نے کہا: ’’لڑکی، ذرا میرے ساتھ چل۔ سنار کی دکان پر بیٹھی رہیو۔‘‘
جُگن نے زیور لیا۔ زلفن ساتھ ہوئی ۔ گلی سے باہر نکل جُگن نے رومال کھولا اور زلفن سے کہا، لاؤ اجلوانے کے الگ کر لیں اور ڈورا ڈلوانے کے الگ۔ زیور کو الگ کرتے کرتے جُگن بولی: ’’ایس! ناک کی کیل کیا ہوئی؟‘‘
زلفن نے کہا: ’’اسی میں ہوگی۔ ذرہ بھر کی تو چیز ہے۔ اسی پوٹلی میں دیکھو۔‘‘
پھر جُگن آپ ہی آپ بولی: ’’اے ہے! پان دان کے ڈھکنے پر رکھی رہ گئی۔ اری زلفن دوڑ کر جا۔ جلدی سے لے آ۔‘‘
زلفن بھاگی بھاگی آئی اور دروازے سے چلائی: ’’بی بی، ناک کی کیل پان دان کے ڈھکنے پر رہ گئی ہے۔ جُگن نے مانگی ہے۔ جلدی دو۔ جُگن گلی کے نکڑ پر دنیا بنیے کی دکان کے آگے بیٹھی ہے۔‘‘
یہ کہنا تھا کہ مزاج دار بہو کا ماتھا ٹھنکا۔ زلفن سے کہا: ’’باؤلی ہوئی ہے؟ کیسی کیل؟ میرے پاس کہیں تھی؟ تو نے دیکھی ہے؟ اری کم بخت! دوڑ۔ دیکھو تو جُگن کہیں چلی نہ جائے۔‘‘
زلفن الٹے پاؤں دوڑی گئی۔ جُگن کو ادھر ادھر دیکھا، کہیں پتا نہ تھا۔ مزاج دار سے آ کر کہا: ’’بی جُگن کا تو کہیں پتا نہیں۔ میں بازار تک دیکھ آئی۔ اتنی دیر میں نہیں معلوم کہاں غائب ہو گئی۔‘‘ یہ سن کر مزاج دار سر پیٹنے لگی: ’’ہائے! میں لٹ گئی! ہائے! میں لٹ گئی! ارے لوگو! خدا کے لیے دوڑیو۔‘‘
موم گروں کے چھتے تک لوگ دوڑے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ کہیں کی بہتی بہاتی مہینے بھر سے کرائے پر آ کر رہی تھی۔ چار دن سے مکان چھوڑ چلی گئی۔ اب کیا ہو سکتا تھا۔ محمد عاقل نے آ کر سنا تو سر پیٹ لیا اور بیوی سے کہا: ’’اری! تو گھر کو خاک سیاہ کر کے چھوڑے گی۔ میں تو تجھ کو پہلے سے جانتا ہوں۔‘‘
مزاج دار نے کہا: ’’چل دور ہو۔ اب باتیں بنانے کھڑا ہوا ہے۔ ازار بند دیکھ کر تو نے مجھ سے کہا تھا کہ بیگم کا اسباب ضرور دیکھنا۔‘‘
غرض خوب مزے کی لڑائی دونوں میاں بی بی میں ہوئی۔ تمام محلہ جمع ہو گیا۔ بات پر بات چلی تو معلوم ہوا کہ اسی جُگن نے کٹنی کی گلی میں احمد بخش خاں کی بی بی کا تمام زیور اسی حیلے سے ٹھگ لیا کہ ایک فقیر سے دُونا کرا دوں گی۔ روئی کے کٹڑے میں میاں مسینا کی بیٹی سے ایسی محبت بڑھائی کہ اس کا زیور بہانے سے اڑا لے گئی۔ غرض زیور تو گیا گزرا ہوا، باتیں بہت سی رہ گئیں۔ برتن چوری جا چکے تھے۔ زیور یوں غارت ہوا۔ ہزار روپے کے موتیوں کی جوڑی جو لوگوں نے دیکھی تو تین پیسے کی تھی۔ تھانے میں اطلاع ہوئی۔ لوگوں نے بطورِ خود بہت ڈھونڈا، جُگن کا سراغ نہ ملا پر نہ ملا۔
اکبری کو جہیز میں جو کپڑے ملے تھے، ان کا حال سینے۔ جب تک ساس کے ساتھ رہیں، ساس دسویں دن نکال کر دھوپ دے دیا کرتی تھیں۔ شروع برسات میں الگ ہو کر رہیں۔ کپڑوں کا صندوق جس کوٹھڑی میں جس طرح رکھا گیا تھا، تمام برسات گزر گئی، اس کو دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ وہیں اسی طرح رکھا رہا۔ جاڑے کی آمد میں دولائی کی ضرورت ہوئی تو صندوق کھولا گیا۔ بہت کپڑوں کو دیمک چاٹ گئی تھی۔ چوہوں نے کاٹ کاٹ کر بغارے ڈال دیے تھے۔ کوئی کپڑا سلامت نہیں بچنے پایا۔
اکبری کا جتنا حال تم نے پڑھا، اس سے تم کو معلوم ہوا ہو گا کہ اکبری کو نانی کے لاڈ پیار نے زندگی بھر کی مصیبت میں رکھا۔ لڑکپن میں اکبری نے نہ کوئی ہنر سیکھا نہ کچھ اس کے مزاج کی اصلاح ہوئی۔ جب اکبری نے ساس سے جدا ہو کر الگ گھر کیا، برتن بھانڈا، کپڑا زیور سب کچھ اس کے پاس موجود تھا، چونکہ خانہ داری کا سلیقہ نہیں رکھتی تھی چند روز میں تمام مال و اسباب خاک میں ملا دیا اور ایک ہی برس میں ہاتھ کان سے ننگی رہ گئی۔ اگر محمد عاقل بھی اس کی طرح احمق اور
بدمزاج ہوتا تو شاید ایک دوسرے سے قطع تعلق ہو جاتا ، لیکن محمد عاقل نے ہمیشہ عقل و شرافت کو برتا۔ ہم کو اکبری کے اتنے حالات معلوم ہیں کہ اگر ہم سب کو لکھنا چاہیں تو ایسی تین چار کتابیں بنیں مگر اکبری کے حالات پڑھنے سے کبھی تو غصہ آتا ہے اور کبھی طبیعت کڑھتی ہے۔ اس سے اس کے زیادہ حالات لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔
خلاصہ / سبق آموز نکات
- تربیت کی اہمیت: بچپن کا لاڈ پیار اگر حدود سے بڑھ جائے تو اولاد کی تربیت خراب ہو جاتی ہے۔
- ہنر مندی: لڑکیوں کے لیے خانہ داری اور امورِ خانہ میں مہارت زندگی کی ضرورت ہے۔
- لالچ کا انجام: سستی چیزوں کے لالچ میں انسان اپنا قیمتی سرمایہ گنوا بیٹھتا ہے۔
- ہوشیاری: اجنبی لوگوں پر جلد بھروسہ کرنا عقلمندی نہیں۔
Comments
Post a Comment