اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
سبق کا عنوان: حمد
جماعت: چہارم
مضمون: اردو
وقت: 40 منٹ
حاصلاتِ تعلم (SLOs):
اس سبق کے اختتام پر طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ:
- حمد کے مفہوم کو سمجھ سکیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کر سکیں۔
- نظم کو درست تلفظ، لے اور آہنگ کے ساتھ پڑھ سکیں۔
- کائنات کے مظاہر (دن، رات، موسم) میں اللہ کی حکمت کو پہچان سکیں۔
- نظم میں موجود مشکل الفاظ کے معنی سمجھ سکیں اور ہم آواز الفاظ (قوافی) کی نشان دہی کر سکیں۔
درکار وسائل:
- درسی کتاب (اردو برائے جماعت چہارم)
- وائٹ بورڈ، مارکر، ڈسٹر
- مختلف موسموں، جانوروں اور قدرتی مناظر کی تصاویر پر مبنی چارٹ
تمہید (05 منٹ):
- استاد کمرہ جماعت میں داخل ہو کر طلبہ سے کچھ سوالات کرے گا:
- بچوں! یہ کائنات، سورج، چاند اور ستارے کس نے بنائے ہیں؟
- جب ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف میں کوئی نظم پڑھتے ہیں تو اسے کیا کہتے ہیں؟
- طلبہ کے جوابات کی روشنی میں "حمد" کے عنوان کا اعلان کیا جائے گا۔
تدریسی عمل / مرکزی سرگرمی (20 منٹ):
- مثالی خوانی: استاد بلند آواز میں نظم کی درست تلفظ اور ترنم کے ساتھ قرآت کرے گا۔
- اشعار کی تشریح: استاد نظم کے بندوں کی سادہ الفاظ میں وضاحت کرے گا:
- پہلا حصہ: اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز خوبصورت اور حکمت سے بھرپور ہے۔
- دوسرا حصہ: دن کی روشنی اور تاروں بھری رات کی خوبصورتی کا تذکرہ۔
- موسموں کا ذکر: جاڑا (سردی)، گرمی اور برسات کی خصوصیات اور ان میں اللہ کی رحمت کا بیان۔
- تخلیقِ خداوندی: جانوروں کے جوڑے، انسانی اعضاء (آنکھیں، ہونٹ) اور اللہ کا قادرِ مطلق ہونا۔
- لغوی وضاحت: اہم الفاظ کے معنی تختہ تحریر پر لکھے جائیں گے:
- خوش نمائی: خوبصورتی
- حکمت: دانائی / تدبیر
- عجب: انوکھا / حیرت انگیز
- رت: موسم
- قوی و قادر: طاقتور اور قدرت رکھنے والا
طلبہ کی مشق (10 منٹ):
- طلبہ باری باری نظم کے دو دو اشعار بلند آواز میں پڑھیں گے۔
- گروہی سرگرمی: طلبہ کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک گروہ نظم سے ہم آواز الفاظ (جیسے: بنائی-صفائی، نرالی-خالی) تلاش کرے گا، جبکہ دوسرا گروہ نظم میں ذکر کیے گئے اللہ کے انعامات کی فہرست بنائے گا۔
اعادہ اور خلاصہ (05 منٹ):
- استاد سبق کا خلاصہ پیش کرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز ایک خاص مقصد اور حکمت کے تحت بنائی ہے۔
- طلبہ سے مختصر سوالات:
- نظم کے مطابق اللہ نے ہر چیز کو کیسا بنایا ہے؟
- گرمی کے موسم میں انسان کو کیا چیز بھلی لگتی ہے؟
- 'قوی و قادر' سے کیا مراد ہے؟
گھر کا کام:
- حمد کے پہلے چار اشعار زبانی یاد کر کے آئیں۔
- نظم میں موجود پانچ جوڑے ہم آواز الفاظ اپنی کاپی میں لکھیں۔
- اللہ کی دی ہوئی پانچ ایسی نعمتوں کے نام لکھیں جن کا ذکر اس نظم میں نہیں ہے۔
Comments
Post a Comment