اردو- 11۱۴۱حصہ نظم سبق: ۲۲ ( غزل ) تدریسی مقاصد: طلبہ کو پروین شاکر کی شاعری میں پائے جانے والی شعری خوبیوں یعنی تشبیہات، استعارات اور زبان کی ندرت کی شناخت، ادبی جمالیات اور شعری حسن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ طلبہ سے نسوانی اور تانیثی ادب کے بارے میں گفتگو کرنا۔ طلبہ کو پروین شاکر کی غزل کے مضامین اور موضوعات کے بارے میں بتانا۔ بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر جاتے جاتے اُس کا وہ مُڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پلپا ہوئے اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئیے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمھارا دیکھنا ایک مُشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا (ماہِ تمام) اضافی مطالعہ و ویڈیوز (EOLS) ویڈیو لیکچر غزل نمبر 5: بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا | پروین شاکر ...
سبق کا منصوبہ (Lesson Plan) مضمون: معاشرتی علوم جماعت: چہارم عنوان: شہریت اور انسانی حقوق (Citizenship and Human Rights)
سبق کا منصوبہ (Lesson Plan)
مضمون: معاشرتی علوم
جماعت: چہارم
عنوان: شہریت اور انسانی حقوق (Citizenship and Human Rights)
وقت: 40 منٹ
حاصلاتِ تعلم (Student's Learning Outcomes)
اس سبق کے اختتام پر طلبہ اس قابل ہو جائیں گے کہ:
- شہری، عالمی شہری اور ڈیجیٹل شہری کے تصور کی تعریف اور ان میں فرق کر سکیں۔
- انسانی حقوق کی تعریف کر سکیں اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی اہمیت جان سکیں۔
- بنیادی انسانی حقوق اور شہریوں کی ذمہ داریوں کی وضاحت کر سکیں۔
ضروری اشیاء (Required Materials)
- درسی کتاب (معاشرتی علوم برائے جماعت چہارم)
- وائٹ بورڈ اور مارکر
- مختلف حقوق اور ذمہ داریوں کے چارٹس
- ڈاکٹر روتھ فاؤ کی تصویر (اگر ممکن ہو)
- انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی علامتی تصاویر (ڈیجیٹل شہریت سمجھانے کے لیے)
تعارف (5 منٹ)
- معلم طلبہ سے چند سوالات پوچھ کر سبق کا آغاز کرے گا: "آپ کس ملک کے رہنے والے ہیں؟" اور "کیا آپ کو اسکول جانے اور ڈاکٹر کے پاس جانے کی آزادی ہے؟"
- طلبہ کے جوابات کی روشنی میں شہریت کا تصور واضح کیا جائے گا کہ کسی ملک کا باشندہ ہونا وہاں کا "شہری" کہلاتا ہے۔
- بتایا جائے گا کہ شہریت کا تصور سب سے پہلے قدیم یونانیوں نے پیش کیا۔
اہم سرگرمی (20 منٹ)
معلم سبق کو تین حصوں میں تقسیم کر کے پڑھائے گا:
1۔ شہریت کی اقسام:
- شہری: پاکستان میں رہنے والا اور یہاں کے حقوق (تعلیم، صحت) رکھنے والا۔
- عالمی شہری: وہ جو پوری دنیا کی بھلائی، امن اور انسانیت کا احترام کرے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر روتھ فاؤ (مادرِ جزام) جنہوں نے انسانیت کے لیے 57 سال خدمات دیں۔
- ڈیجیٹل شہری: وہ جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا (فیس بک، وٹس ایپ) کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے۔
2۔ انسانی حقوق:
- طلبہ کو بتایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو برابر پیدا کیا ہے (حضرت آدمؑ کی اولاد)۔
- اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق بنیادی حقوق جیسے آزاد زندگی، تعلیم، علاج اور اظہارِ رائے کی وضاحت کی جائے گی۔
3۔ شہریوں کی ذمہ داریاں:
- معلم واضح کرے گا کہ حقوق کے ساتھ ساتھ کچھ فرائض بھی ہیں۔ جیسے قوانین کی پابندی، ٹیکس کی ادائیگی، سرکاری املاک (پارک، ہسپتال) کی حفاظت اور پانی و بجلی کا احتیاط سے استعمال۔
طلبہ کی مشق (10 منٹ)
- طلبہ کو گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا اور انہیں ایک فہرست دی جائے گی جس میں سے وہ "حقوق" اور "ذمہ داریوں" کو الگ الگ کالموں میں لکھیں گے۔
- وائٹ بورڈ پر ایک مختصر کوئز: "ڈیجیٹل شہری کی کوئی ایک ذمہ داری بتائیں؟" (جواب: دوسروں کی معلومات کا احترام کرنا)۔
اعادہ و خلاصہ (5 منٹ)
- معلم سبق کے اہم نکات کا خلاصہ کرے گا:
- شہری، عالمی اور ڈیجیٹل شہری میں فرق۔
- انسانی حقوق تمام انسانوں کے لیے برابر ہیں۔
- ایک اچھا شہری اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق اور اپنی ذمہ داریوں کا بھی خیال رکھتا ہے۔
گھر کا کام (Homework)
- پانچ بنیادی انسانی حقوق کی فہرست اپنی کاپی میں تحریر کریں۔
- ایک ڈیجیٹل شہری ہونے کے ناطے آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے وقت کن تین اخلاقی باتوں کا خیال رکھیں گے؟ لکھ کر لائیں۔
- ڈاکٹر روتھ فاؤ کے بارے میں دو جملے لکھیں کہ انہیں "مادرِ جزام" کیوں کہا جاتا ہے؟
Comments
Post a Comment