مثالی معلم
سید نا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی دیواریں اُٹھاتے ہوئے دُعا کی تھی: ”اے رب! ان لوگوں میں خود انھی کی قوم میں سے ایک ایسا رسول بھیج دیجیے جو انھیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے
آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے ذریعے سے انسانوں کی زندگی میں ایسی تبدیلی لائے کہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی
گفت گو نہایت صاف اور واضح ہوتی
بہترین علم وہ ہے جو نفع بخش ہو
۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے
۔ اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو
۔
آپ ﷺ کے لہجے میں محبت اور دل سوزی ہوتی
ایک دفعہ ایک صحابی کھانا کھا رہے تھے
حضرت محمد رسول الله ﷺ سوال و جواب کے ذریعے سے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دین کی تعلیم دیتے
آپ ﷺ بعض اوقات اپنی بات کو اچھی طرح سمجھانے اور واضح کرنے کے لیے ہاتھ کے اشاروں سے مدد لیتے
اس بات کا مطلب یہ ہے کہ گفت گو میں احتیاط سے کام لینا چاہیے
آپ ﷺ موقعے کے مطابق بات کرتے
ہم نے سیکھا
آپ ﷺ واضح، مختصر اور جامع بات کرتے
۔ آپ ﷺ نرمی، شفقت اور محبت سے بات سمجھاتے
۔ آپ ﷺ آسان مثالوں اور ہاتھ کے اشاروں سے بات ذہن نشین کراتے
۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ: ایک مثالی معلم
پیارے بچو! کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور انہی کی اولاد میں سے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا؟ آپ ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی کا پہلا لفظ "اقراء" تھا، جس کا مطلب ہے "پڑھ"۔
آپ ﷺ نے ایک موقع پر خود فرمایا: "مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔" آپ ﷺ نے اپنی بہترین تعلیم اور تربیت سے لوگوں کی زندگیوں میں ایسی شاندار تبدیلی پیدا کی جس کی تاریخ میں کوئی اور مثال نہیں ملتی۔
آپ ﷺ کے پڑھانے اور سمجھانے کے خاص اصول
- صاف اور واضح گفتگو: آپ ﷺ بہت ٹھہر ٹھہر کر اور واضح بات کرتے تاکہ سننے والے کو اچھی طرح سمجھ آ جائے۔ آپ ﷺ کے الفاظ کم لیکن بہت اثر والے ہوتے تھے۔
- محبت بھرا انداز: آپ ﷺ کے لہجے میں بہت محبت ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کبھی ایسی بات نہ کہتے جس سے کسی کو غصہ آئے یا تکلیف پہنچے۔
- آسان مثالیں اور اشارے: بات کو ذہن نشین کرانے کے لیے آپ ﷺ اکثر ہاتھ کے اشاروں اور روزمرہ کی مثالوں کا استعمال کرتے تھے۔
آپ ﷺ کی چند پیاری تعلیمات
- "بہترین علم وہ ہے جو نفع بخش ہو۔"
- "اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔"
- "اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔"
پیار سے اصلاح کرنے کا انداز
ایک بار ایک صحابی مناسب انداز میں کھانا نہیں کھا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں غصہ کرنے کے بجائے پیار سے سمجھایا: "جب تم کھانا کھاؤ تو بسم اللہ پڑھ لیا کرو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے کھایا کرو۔"
سوال و جواب کے ذریعے تعلیم
آپ ﷺ اکثر سوال کر کے بھی سکھاتے تھے۔ جیسے ایک بار پوچھا کہ اگر کسی کے گھر کے سامنے نہر ہو اور وہ روزانہ 5 بار اس میں نہائے تو کیا اس کے بدن پر میل رہے گا؟ صحابہ نے کہا نہیں! تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی حال پانچوں نمازوں کا ہے کہ اللہ ان کے ذریعے سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: "مومن مومن کا آئینہ ہے۔" اس کا مقصد غیبت سے منع کرنا تھا کیونکہ آئینہ کبھی ایک بندے کی خامیاں پیٹھ پیچھے نہیں بتاتا، بلکہ صرف سامنے ظاہر کرتا ہے۔
ہم نے کیا سیکھا؟ ہم نے سیکھا کہ آپ ﷺ واضح اور جامع بات کرتے، نرمی اور شفقت سے سمجھاتے، اور جو بات سکھاتے پہلے خود اس پر عمل کر کے دکھاتے۔ بے شک آپ ﷺ کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے!
اس لیسن کا ٹیسٹ (20 سوالات)
.jpg)
Comments
Post a Comment