SNC TEST
Single National Curriculum
CLASS: 4
سوال نمبر 1: اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہر چیز سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ الف) خوش نمائی ب) صفائی ج) پرچھائی د) لڑائی
سوال نمبر 2: شاعر کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کوئی بھی چیز کس سے خالی نہیں ہے؟ الف) رنگ ب) خوشبو ج) حکمت د) مٹی
سوال نمبر 3: رات کو اللہ تعالیٰ نے کس چیز سے بھر دیا ہے؟ الف) بادلوں ب) تاروں ج) پرندوں د) خوشبوؤں
سوال نمبر 4: جاڑے کے موسم میں انسانی بدن پر کیا کیفیت طاری ہوتی ہے؟ الف) پسینہ آتا ہے ب) تھرتھراتا ہے ج) گرم ہو جاتا ہے د) سکون پاتا ہے
سوال نمبر 5: گرمی کے موسم میں انسان کو کیا چیز اچھی لگتی ہے؟ الف) دھوپ ب) آگ ج) سایا د) بارش
سوال نمبر 6: برسات کے موسم میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے کیا چلتے ہیں؟ الف) تھپیڑے ب) جھونکے ج) بگولے د) طوفان
سوال نمبر 7: اللہ تعالیٰ نے ہر شے کے کیا بنا دیے ہیں؟ الف) رنگ ب) جوڑے ج) نام د) گھر
سوال نمبر 8: اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہونٹ کس لیے عطا کیے ہیں؟ الف) کھانے کے لیے ب) بولنے کے لیے ج) ہنسنے کے لیے د) پینے کے لیے
سوال نمبر 9: نظم کے آخری شعر میں اللہ تعالیٰ کو کیا کہا گیا ہے؟ الف) رحیم و کریم ب) غفور و رحیم ج) قوی و قادر د) مالک و مختار
سوال نمبر 10: "ہر رت میں نیا سماں" سے کیا مراد ہے؟ الف) ہر دن ب) ہر جگہ ج) ہر موسم د) ہر سال
مختصر سوالات
سوال نمبر 1: نظم کے پہلے شعر میں اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کی کیا صفت بیان کی گئی ہے؟ سوال نمبر 2: دن کی صفائی اور رات کی بناوٹ سے کیا مراد ہے؟ سوال نمبر 3: نظم میں کن تین جانوروں کے نام آئے ہیں؟ سوال نمبر 4: اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو روشن آنکھیں کیوں عطا کی ہیں؟ سوال نمبر 5: "حکمت سے نہیں ہے کوئی خالی" کا کیا مطلب ہے؟
تفصیلی سوالات
سوال نمبر 1: نظم میں بیان کیے گئے مختلف موسموں (جاڑا، گرمی، برسات) کی خصوصیات اپنے الفاظ میں لکھیے۔ سوال نمبر 2: اس نظم کا مرکزی خیال تحریر کریں کہ شاعر نے اللہ کی قدرت کے بارے میں کیا پیغام دیا ہے۔
**
PART 2: ANSWER KEY
**
کثیر الانتخابی سوالات کے جوابات:
- (الف) خوش نمائی
- (ج) حکمت
- (ب) تاروں
- (ب) تھرتھراتا
- (ج) سایا
- (ب) جھونکے
- (ب) جوڑے
- (ب) بولنے کے لیے
- (ج) قوی و قادر
- (ج) ہر موسم
مختصر سوالات کے جوابات:
- اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں خوش نمائی ظاہر ہے اور ہر چیز کی ادا نرالی ہے۔
- دن کی صفائی سے مراد دن کی روشنی اور چمک ہے، جبکہ رات کی بناوٹ سے مراد تاروں بھری خوبصورت رات ہے۔
- نظم میں اونٹ، بیل اور گھوڑے کے نام آئے ہیں۔
- اللہ تعالیٰ نے ہمیں روشن آنکھیں دیکھنے اور کائنات کے نظارے کرنے کے لیے عطا کی ہیں۔
- اس کا مطلب ہے کہ اللہ کی پیدا کردہ کوئی بھی چیز بے مقصد نہیں ہے، ہر چیز کی تخلیق میں کوئی نہ کوئی دانائی اور وجہ چھپی ہے۔
تفصیلی سوالات کے اشارے:
- طالب علم کو جاڑے کی کپکپی اور دھوپ، گرمی کی تپش اور سائے کی اہمیت، اور برسات کے بادلوں اور ٹھنڈی ہوا کا ذکر کرنا چاہیے۔
- مرکزی خیال یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی قدرت اور کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے، وہ بہت طاقتور ہے اور اس نے ہر چیز بہترین حکمت کے ساتھ پیدا کی ہے۔
Comments
Post a Comment